

محمود احمد june 05,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے ایک خصوصی، تفصیلی اور تزویراتی پیغام میں موسمیاتی بحران کے مقابلے کے لیے عالمی اور علاقائی سطح پر اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کرہ ارض کے تحفظ اور ماحولیاتی مسائل کے مؤثر مقابلے کے لیے تمام اجتماعی اقدامات کو ہر ممکن حد تک مضبوط بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے اس بات کو ایک بار پھر واضح طور پر اجاگر کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصے دار ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے تباہ کن اثرات سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں اور ممالک کی فہرست میں شامل ہے، اس کے باوجود ملک مسلسل آنے والے ریکارڈ توڑ اور تباہ کن سیلابوں، شمالی علاقہ جات میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے عمل، زرعی زمینوں کو بنجر کرنے والی شدید خشک سالی، گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ توڑ شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) اور ملک بھر میں پینے اور زراعت کے پانی کے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ جیسے سنگین ترین وجودی چیلنجز کے مقابلے میں بے پناہ ثابت قدمی، ہمت اور قومی عزم کا مظاہرہ کر رہا ہے، سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، دنیا سے مختلف جانداروں اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک حد تک ہونے والی کمی اور مجموعی طور پر ماحولیاتی تنزلی جیسے باہم جڑے ہوئے پیچیدہ عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ فنڈنگ کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عالمی مہم کے ضمن میں “مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں” کے عالمی سطح پر مانے گئے اصول کو ہمیشہ مخلصانہ طور پر پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ ممالک کو ان کا جائز حق مل سکے، انہوں نے حکومت کی داخلی پالیسیوں کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قومی سطح پر حکومتِ پاکستان ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کو اپنی تمام تر ریاستی اور وفاقی پالیسی ترجیحات کا ایک مرکزی اور لازمی جزو بنانے کے لیے مخلصانہ طور پر کوشاں ہے جہاں اس طویل المدتی منصوبے کے سلسلے میں موجودہ حکومت کا ایک اہم ترین اور تاریخی سنگِ میل یہ ہے کہ اب صاف, صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو ملک کے ہر شہری کا بنیادی آئینی حق تسلیم کیا گیا ہے، نائب وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ اور ہم آہنگ رہائشی منصوبوں کی تعمیر، ماحول کو آلودگی سے بچانے کے لیے صاف و گرین توانائی کی جانب تیز تر منتقلی اور بڑے شہروں میں ماحول دوست و پائیدار تعمیراتی طریقوں کے فروغ کے لیے عملی اور ٹھوس زمینی اقدامات کر رہا ہے، تاہم موسمیاتی بحران کی روز بہ روز بڑھتی ہوئی سنگینی اس امر کی سختی سے متقاضی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ، مادی اور مؤثر اقدامات کو یقینی بنائے، اپنے اس تفصیلی پیغام کے آخر میں انہوں نے آذربائیجان کی حکومت کا عالمی یومِ ماحولیات دو ہزار چھبیس کی شاندار اور کامیاب میزبانی کرنے پر خصوصی اور مخلصانہ شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرنے، ماحولیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور تعمیری عالمی مکالمے کے فروغ میں آذربائیجان کی موجودہ قائدانہ کاوشوں اور سفارتی کردار کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔