امریکہ کی حقیقی طاقت اس کی جامعات ہیں، پاکستان بھی علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے؛ احسن اقبال کا بوسٹن کا اہم دورہ

روزینہ اسماعیل, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورہ بوسٹن کے دوران امریکی تعلیمی اداروں، ممتاز محققین اور جدت طراز اداروں کے سربراہان سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ہائی ٹیک تعلیم، موسمیاتی لچک، معاشی ترقی، پبلک پالیسی اور اختراع کے شعبوں میں پاک امریکہ ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان معیاری تعلیم، تحقیق اور جدید ایجادات میں سرمایہ کاری کے ذریعے علم پر مبنی معیشت کی بنیاد رکھ رہا ہے اور اس تزویراتی ہدف کے حصول کے لیے حکومت عالمی معیار کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید وسعت دے گی۔

وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے بوسٹن یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عادل نجم اور ڈاکٹر کین لچن سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے حکومت کے فلیگ شپ منصوبے ‘امریکا پاکستان نالج کاریڈور’ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت 10 ہزار پاکستانی طلبہ کو دنیا کی بہترین جامعات سے پی ایچ ڈی کروانے کا ہدف ہے۔ انہوں نے ایک ایسے اشتراکی ماڈل کی تجویز پیش کی جس کے تحت پاکستانی محققین پاکستان کے ترقیاتی چیلنجز پر امریکی جامعات میں تحقیق کریں، جس میں تعلیمی اخراجات امریکی جامعات اور سفری و انتظامی اخراجات حکومتِ پاکستان برداشت کرے، جسے امریکی حکام نے بے حد سراہا۔ انہوں نے وفاقی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے نصاب اور تدریس میں مصنوعی ذہانت کو مؤثر انداز میں شامل کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے پائیدار ترقیاتی پالیسی مرکز کا دورہ کیا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق پر اتفاق کیا۔

پروفیسر احسن اقبال نے ہارورڈ کینیڈی اسکول کے ‘گروتھ لیب’ کا بھی دورہ کیا، جہاں ‘اڑان پاکستان’ کے تحت ملک کی طویل المدتی معاشی حکمتِ عملی اور ایک کھرب ڈالر کی معیشت کے ہدف پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر نے گروتھ لیب کو پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے، صنعتی ترقی اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات فراہم کرنے اور قومی ترقیاتی حکمتِ عملی کی تشکیل میں شراکت داری کی دعوت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کی بنیاد صرف پیداواریت، اختراع اور برآمدات میں اضافہ پر ہوگی۔

وفاقی وزیر نے ہارورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے مشترکہ تحقیقی ادارے ‘جے پال’ کا بھی دورہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال دھالیوال سے غربت میں کمی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی پر تبادلہ خیال کیا۔ احسن اقبال نے یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آزادانہ جائزہ لینے کی تجویز پیش کی تاکہ اس کی افادیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ دورے کے آخری مرحلے میں انہوں نے کیمبرج انوویشن سینٹر اور وینچر کیفے کا دورہ کیا اور جامعات، صنعت اور سرمایہ کاروں کے مابین روابط کو پاکستانی معیشت کے لیے رول ماڈل بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔