اقوامِ متحدہ کا آبنائے ہرمز میں فوری انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں سے عالمی سطح پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی شدید متاثر، یو این ہائی کمشنر وولکر ترک اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکہ ایران امن معاہدے اور جنگ بندی کا شاندار خیرمقدم

محمود احمد june 16,2026

اقوامِ متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں فوری طور پر ایک محفوظ انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر میں خوراک، ایندھن اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی معطل شدہ ترسیل کو فوری بحال کر کے ممکنہ ہولناک عالمی غذائی بحران کا رستہ روکا جا سکے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری حالیہ جنگ اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹوں نے عالمی سطح پر توانائی، خوراک کی منڈیوں اور انسانی امداد کی بین الاقوامی فراہمی کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، اسی حساس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی نائب ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ایوا ڈیبو نے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی حساس ترین گزرگاہ کی مکمل بندش یا اس کی محدود فعالیت دنیا کی پہلے سے پسماندہ اور کمزور معیشتوں کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر غربت، افلاس اور بھوک کے مہیب سائے مزید گہرے ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اس بحران کے بیچ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے عالمی طاقت امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پانے والے نئے امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین پر سخت زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اب مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس عارضی پیش رفت کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مخلصانہ کوششیں تیز کریں، اسی اثناء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے ایک تہنیتی بیان میں امریکہ ایران امن معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے تجارتی مقاصد کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے، اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام ذیلی امدادی اداروں نے متفقہ طور پر دنیا کو یہ خطرے کی گھنٹی سنائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ رکاوٹوں کے باعث خوراک، فصلوں کے لیے ضروری کھاد اور خام تیل (ایندھن) کی عالمی سپلائی چین بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس کے سنگین اثرات اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے جھٹکے سرحدوں سے باہر پوری دنیا میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

عالمی سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حالیہ تاریخی امن فریم ورک کے مسودے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری جنگ بندی کو مستقل قانونی شکل دینے کی کڑی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاہم اس پورے فریم ورک کے سو فیصد نفاذ اور زمین پر اس کی عملی شکل دیکھنے کے لیے فریقین کے مابین ابھی مزید چند اعلیٰ سطح کے مذاکرات درکار ہوں گے، بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ حالیہ سفارتی پیش رفت اس وقت عالمی معیشت کو سہارا دینے، تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور غریب ممالک کو خوراک کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نہایت اہم اور ریڑھ کی ہڈی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم اور بڑی بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔