بلوچستان کے چیلنجز کا آئینی دائرہ کار میں حل؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو درپیش مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ایک اہم ترین تزویراتی سیاسی بیٹھک ہوئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس کے دوران بلوچستان کے موجودہ سیاسی و معاشی چیلنجز اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتوار کے روز ڈپٹی پی ایم آفس سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے وفاقی حکومت کے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وفاقی حکومت آئینِ پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کے غیور عوام کو درپیش تمام جائز چیلنجز اور دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں اقتصادی خوشحالی، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کے لیے وہاں کے شہریوں کی جائز امنگوں کو ہر صورت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مسائل میں گہری دلچسپی لینے پر محمد اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی صوبے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری اور ان کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مضبوط تزویراتی جذبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر سخت زور دیا کہ بلوچستان میں سرگرم اور امن کو سبوتاژ کرنے والے شرپسند عناصر کو بلوچستان کے غیور عوام کی کوئی حمایت یا ہمدردی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ان کی پرتشدد کارروائیوں کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔