آزاد کشمیر انتخابات میں ن لیگ کو سادہ اکثریت حاصل: رانا ثناء اللہ اور امیر مقام کی مشترکہ پریس کانفرنس

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں دو مراحل کے تحت الیکشن کا پرامن، شفاف اور منصفانہ انعقاد دراصل جمہوریت، کشمیری عوام اور ریاست کی عملداری کی بڑی کامیابی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے دوران آزاد کشمیر اور مہاجرین کے 20 حلقوں میں انتخابی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا، جس میں مسلم لیگ (ن) نے 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے۔ میرپور ڈویژن کی 9 اور مظفرآباد ڈویژن کی 7 میں سے 4 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) جبکہ 3 پر پیپلز پارٹی کامیا ب ہوئی، جبکہ مہاجرین کی 12 میں سے 10 نشستیں ن لیگ کے حصے میں آئیں۔

رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے شکست سامنے دیکھ کر گزشتہ روز سے ہی دھاندلی کا بیانیہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ ابتدا میں 13 حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگایا گیا جو شواہد مانگنے پر پہلے 4 اور پھر 2 حلقوں تک محدود ہو گیا۔” انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا میثاقِ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ سے آئے ہوئے ایک ایم این اے پولیس اہلکاروں کی معیت میں گاڑیوں کے قافلے لے کر پولنگ اسٹیشنوں پر خوف و ہراس پھیلاتے رہے۔

وفاقی وزیر امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے اس انتہائی شفاف اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد پر الیکشن کمیشن، مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دو سال سے انتخابی میدان میں مسلسل محنت کی ہے، اور پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں نے اپنی اعلیٰ قیادت کو غلط گائیڈ کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دھرنا دینے والی تنظیموں اور کشمیری رہنماؤں کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، چند ہزار افراد لاکھوں ووٹرز کے مقدر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر انتخابات کا آخری مرحلہ مکمل ہوتے ہی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر حکومت سازی کا عمل مکمل کیا جائے گا اور قائد میاں محمد نواز شریف کے وعدوں کے مطابق آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

بلوچستان کے چیلنجز کا آئینی دائرہ کار میں حل؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کو درپیش مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی دارالحکومت میں ایک اہم ترین تزویراتی سیاسی بیٹھک ہوئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے نیشنل پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس کے دوران بلوچستان کے موجودہ سیاسی و معاشی چیلنجز اور دیگر اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتوار کے روز ڈپٹی پی ایم آفس سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، اس اہم ملاقات میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ خان اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ بھی خصوصی طور پر شریک تھے۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے وفاقی حکومت کے مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وفاقی حکومت آئینِ پاکستان کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بلوچستان کے غیور عوام کو درپیش تمام جائز چیلنجز اور دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صوبے میں اقتصادی خوشحالی، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کے لیے وہاں کے شہریوں کی جائز امنگوں کو ہر صورت پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مسائل میں گہری دلچسپی لینے پر محمد اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی صوبے کے عوام کی زندگیوں میں بہتری اور ان کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مضبوط تزویراتی جذبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر سخت زور دیا کہ بلوچستان میں سرگرم اور امن کو سبوتاژ کرنے والے شرپسند عناصر کو بلوچستان کے غیور عوام کی کوئی حمایت یا ہمدردی حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ان کی پرتشدد کارروائیوں کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے باہمی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔