

منصور احمد, August 28,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء
پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کی شدید قلت اور زیرِ زمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی پر قابو پانے کے لیے 31 ارب روپے کا ایک عظیم الشان سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت شہر کا پینے کے پانی کے لیے زیرِ زمین پانی پر 99 فیصد انحصار کم کر کے سطحی پانی کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بی آر بی کینال سے روزانہ 54 ملین گیلن پانی حاصل کر کے اسے جدید پلانٹ کے ذریعے صاف کر کے شہریوں کو پینے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور اس وقت شہر بھر میں 594 گہرے ٹیوب ویل چلا رہی ہے جن کے ذریعے روزانہ 329 ملین گیلن زیرِ زمین پانی نکال کر فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تین سے پانچ فٹ تک تیزی سے گر رہی ہے۔ واسا حکام کے مطابق سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کے PC-I کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب حتمی منظوری کے لیے دستاویزات قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو پیش کی جائیں گی۔
واسا لاہور کے وائس چیئرمین اور رکن پنجاب اسمبلی چوہدری شہباز احمد نے بتایا کہ حتمی منظوری ملتے ہی منصوبے پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھینی روڈ کے قریب قائم کیے جانے والے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ابتدائی صلاحیت 100 کیوسک یعنی 54 ملین گیلن یومیہ ہوگی، جسے بعد میں مرحلہ وار بڑھا کر 1,000 کیوسک یعنی 540 ملین گیلن یومیہ تک توسیع دی جائے گی۔ یہ پراجیکٹ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت سے جاری 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے ‘لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ’ کا ایک بنیادی حصہ ہے، جس میں لاریچ کالونی سے گلشنِ راوی تک ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید ٹرنک سیور بچھانا بھی شامل ہے تاکہ وسطی لاہور میں برساتی نالوں اور سیوریج پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے اس منصوبے کو لاہور کے پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کی طرح لاہور کو بھی سطحی پانی کے منصوبوں پر منتقل ہونا ہوگا کیونکہ ہمارا زیرِ زمین واٹر بجٹ اس وقت منفی ہو چکا ہے جہاں ری چارجنگ کی نسبت پانی نکالنے کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نہری پانی کی صفائی اور سپلائی سے جہاں واٹر ٹیبل پر دباؤ کم ہوگا، وہی واسا کو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ پارکوں اور شجرکاری کے لیے زیرِ زمین پانی کا بلاجواز استعمال روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس پر ابتدائی سرمایہ کاری بڑی ہے، تاہم لاہور کے پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کے لیے اس کے طویل مدتی فوائد کہیں زیادہ ہوں گے۔