چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترے ہیں؛ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بڑا بیان

محمود احمد, JULY 26,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ اور حزوِ جان تعلقات ہمیشہ وقت کے ہر امتحان اور تقاضے پر پورا اترتے آئے ہیں۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حتمی عمل میں پاکستان کے متحرک اور مثبت کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ چینی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ بیجنگ انتظامیہ پاکستان کی ان سفارتی و ثالثی کی کوششوں کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گی۔ وانگ ای نے اعادہ کیا کہ چین تمام متعلقہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور مشرقِ وسطیٰ و خطے میں دیرپا اور پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ پیش رفت اور کوششیں جاری رکھے گا۔

بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کا انعقاد؛ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا خطاب

محمود احمد, JULY 25,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت اور خطاب کیا۔ اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، ایس سی او کے سیکریٹری جنرل اور علاقائی انسدادِ دہشت گردی ادارے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ ایس سی او کے تھیان جن سربراہی اجلاس میں آئندہ دس برسوں کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے جس سے تنظیم اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال تنظیم کا 25واں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے؛ چھ ممالک کی سرحدی عسکری اعتماد سازی سے شروع ہونے والی یہ تنظیم آج 27 ممالک اور دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل ایک طاقتور پلیٹ فارم بن چکی ہے جو 50 سے زائد شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ دس سالہ حکمتِ عملی کا مقصد رکن ممالک کے درمیان قریبی اشتراک کو بڑھانا ہے تاکہ ایک زیادہ جمہوری اور منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام کا قیام ممکن ہو سکے۔