تاریخی خارجہ پالیسی اور تزویراتی کامیابی: امریکا ایران تاریخ ساز معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط، دنیا کے نامور اخبارات کے فرنٹ پیج پر پاکستان کا کردار نمایاں، وزیراعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اور اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخ ساز معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط کی تصویر آج دنیا کے سب سے بڑے اور ممتاز ترین اخبارات کے فرنٹ پیجز پر لگی ہوئی ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر جو غیر معمولی عزت اور وقار ملا ہے، یہ اربوں روپے خرچ کر کے بھی ہم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ یہ پاکستان کی مخلصانہ، انتھک اور عرق ریزی سے کی جانے والی کوششوں کا مقتدر نتیجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور اب اگلے 60 دن کے تکنیکی مذاکرات بھی ان شاء اللہ مکمل کامیاب ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تزویراتی مذاکرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے لیے پاکستانی وفد نے دن رات گفتگو کا سلسلہ جاری رکھا۔ بالآخر صبح کے تقریباً ڈھائی تین بجے ایک مشترکہ اعلامیہ اور ایم او یو تیار کیا گیا جس کی تمام فریقین نے توثیق کی اور پاکستان نے اس پر بطور ثالث دستخط کیے۔ انہوں نے سپیکر سردار ایاز صادق، قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‘واشنگٹن پوسٹ’، ‘فنانشل ٹائمز’ اور ‘نیویارک ٹائمز’ جیسے بین الاقوامی جرائد نے پاکستان کے اس کلیدی کردار کو نمایاں کیا ہے۔ وزیراعظم نے یہ مقتدر اعلان بھی کیا کہ ان کے انتہائی پیارے بھائی اور ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہماری خصوصی دعوت پر جلد پاکستان تشریف لا رہے ہیں، جس سے دونوں برادر ممالک کے تعلقات مزید تزویراتی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ انہوں نے ایوان میں ڈیسک صادق اور مخلصانہ جذبوں کے ساتھ بجایا تھا کیونکہ آج پاکستان عالمی سطح پر معتبر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے اس مؤقف کو حقائق کے منافی قرار دیا کہ وفاق بلوچستان کو اس کا حق نہیں دے رہا۔ وزیراعظم نے مقتدر الفاظ میں دہرایا کہ چاروں صوبوں نے این ایف سی ایوارڈ میں رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے وسائل کا حصہ 100 فیصد بڑھایا ہے، جس میں تنہا پنجاب باقی صوبوں کے ساتھ مل کر سالانہ 11 ارب روپے کا حصہ ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر کے شریک نہیں ہوں گے، وہ پاکستان کی ترقی نہیں کہلا سکتی۔ خطاب کے آخر میں سیاسی گرما گرمی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے اپوزیشن کو کرپشن اور انتخابی دھاندلی کے الزامات پر آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر اپوزیشن کو الیکشن کی تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو شروعات 2018ء کے الیکشن کی جادوگری اور بیلٹ باکس بھرنے کے مقتدر الزامات سے کرتے ہیں، جس کے بعد 2024ء کے الیکشن پر بھی بات ہو جائے گی، کیونکہ اگر بات نکلی تو پھر بہت دور تک جائے گی۔

آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کریں گے، امریکہ ایران جنگ بندی سے اب خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور مہنگائی کی سیاہ رات ختم ہونے کو ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں تاریخی خطاب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر خطاب کرتے ہوئے غیور ملکی عوام کے لیے ایک بہت بڑی معاشی خوشخبری سنائی ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، اس کے تحت آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور تاریخی کمی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے ایوان میں ارکانِ اسمبلی سے سٹریٹجک گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج سے ٹھیک ۳ مہینے پہلے جب مشرقِ وسطیٰ میں اچانک ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو یکدم آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست معاشی بوجھ پاکستان کی غریب عوام کو اٹھانا پڑا، لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ تاریخی جنگ بندی کے فوری بعد اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید واضح کمی آئے گی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس عظیم امن معاہدے اور جنگ بندی کے باعث اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور اب مہنگائی کی وہ طویل سیاہ رات ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس کٹھن بحران کے وقت ہمارے معاشی وسائل حد سے زیادہ محدود تھے لیکن چونکہ آج تیل اور پٹرول کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ اعلان ہونا ہے، اس لیے حکومت آج عوام کو ایک بڑا ریلیف دینے جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ ایران امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ساری دنیا میں پاکستان کا نام انتہائی عزت، تکریم اور وقار کے ساتھ گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سٹریٹجک وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے ایوان کو سفارتی رابطوں سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ کل شام ان کی ایران کے معزز صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے طویل تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس کے دوران ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی پر بار بار ریاستِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے خود کہا کہ وہ بہت جلد باضابطہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور یہاں کی غیور عوام کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں گے، وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی وحدت کے لیے ہم سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے، انہوں نے اس عظیم مشن کی کامیابی پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنیوا اور سفارتی محاذ پر بھرپور حصہ ڈالا جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے پسِ پردہ اپنا پورا متحرک کردار احسن طریقے سے ادا کیا، شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس حساس قومی معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واشنگٹن اور تہران کو امن کی میز پر لانے کے حوالے سے سب سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی، تاریخی اور سٹریٹجک کردار پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے جن کی شب و روز کی انتھک محنت اور جرات مندانہ حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر امن کا ضامن بنا دیا، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر اس تاریخی کامیابی کا کوئی سستا سیاسی کریڈٹ لینے کا بالکل شوق نہیں ہے بلکہ ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے ذہنوں پر صرف اور صرف اپنی غیور قوم کو عالمی سطح پر سرخرو کرنے اور انہیں کریڈٹ دلوانے کا ایک مخلصانہ جوش و جذبہ سوار تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔