مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف، پٹرول 74 روپے اور ڈیژل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی تاریخی کمی، وزیرِ اعظم نے حتمی منظوری دے دی، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے قوم سے کیے گئے اپنے حالیہ وعدے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور سنسنی خیز معاشی ریلیف کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 74 روپے کی ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت میں بھی 67 روپے فی لیٹر کی بھاری کٹوتی کر دی گئی ہے، حکومت کے اس انقلابی اور عوامی فیصلے کے بعد پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت 373 روپے سے یکسر کم ہو کر 299 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ ڈیژل کی قیمت بھی 378 روپے سے گھٹ کر 311 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ العمل ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق اس مقتدر فیصلے کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تیز ترین گراوٹ کے براہِ راست اور حقیقی اثرات کو کسی بھی تاخیر کے بغیر غریب عوام کی دہلیز تک منتقل کرنا ہے، وزیرِ اعظم نے اس تاریخی ریلیف پیکج پر دستخط کرتے ہوئے اپنے خصوصی بیان میں واضح کیا ہے کہ عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے شکنجے سے آزاد کرانا اور ان پر موجود شدید معاشی دباؤ کو کم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کڑا رخ اختیار کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں کہ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اس بھاری کمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ (سبزی، پھل اور دالوں) کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے فوری کمی لائی جائے تاکہ اس اسٹرٹیجک ریلیف کا فائدہ عام آدمی کو مل سکے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور پائیدار موڑ قرار دیا ہے، ماہرینِ معیشت کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں اتنی بڑی نوعیت کی کمی سے ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے اخراجات یکسر نیچے آئیں گے، جس کے نتیجے میں ملک میں جاری مہنگائی کی مجموعی شرح (Inflation) میں واضح اور بڑی کمی واقع ہوگی، عوامی حلقوں نے بھی پٹرول کی قیمت 300 روپے سے نیچے آنے پر شدید مسرت کا اظہار کیا ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی حالیہ کامیاب جنگ بندی اور سفارت کاری کا پہلا بڑا اور حقیقی معاشی ثمر قرار دیا ہے۔