امریکی جنگی جہاز 100 کلومیٹر کے قریب آ کر دکھائیں، جواب مل جائے گا: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی شدید دھمکی

محمود احمد, September 13,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے امریکہ اور بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت چیلنج دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن واقعتاً آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کا سوچ رہا ہے تو وہ کسی امریکی بحری جہاز کو ایرانی حدود کے ۱۰۰ کلومیٹر کے دائرے میں لا کر دکھائے۔

ایران کے مذہبی شہر مشہد میں حکومتِ تہران کے حامیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر عہدیدار علی محمدی نے کہا کہ پینٹاگون اور امریکی فوجی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ اگر ان کے بحری اور جنگی جہاز ایرانی بحری سرحدوں کے قریب آئے تو انہیں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انتہائی ہولناک اور فوری ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حالیہ چند دنوں میں بھی اس سلسلے میں ایک زبردست عملی مثال سامنے آ چکی ہے، تاہم انہوں نے تزویراتی وجوہات کی بنا پر اس مخصوص واقعے کی مزید تفصیلات پبلک نہیں کیں۔

علی محمدی نے مشہد میں اپنے خطاب میں مزید دعویٰ کیا کہ اس وقت خلیجِ فارس، بحیرہ عمان اور تزویراتی آبنائے ہرمز میں ایک بھی امریکی فوجی موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان بین الاقوامی سمندری علاقوں میں اب امریکی عسکری سازوسامان تعینات ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو تنبیہ کی کہ اگر امریکی بحری جہاز ممنوعہ حدود کے پاس آئے تو امریکہ کو اس کے بھیانک نتائج کا پہلے سے بخوبی اندازہ ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے بحری افسر نے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا کہ کویت اور بحرین کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام تجارتی و عسکری بحری جہاز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مکمل ریڈار کنٹرول اور نگرانی میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی جہاز نے طے شدہ بحری ضوابط کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف پاسداران کے وضع کردہ سخت قواعد کے تحت فوری کارروائی کی جائے گی۔

علی محمدی کے یہ سخت جنگجویانہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکہ کے درمیان عسکری و سفارتی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز اور خلیجِ فارس میں امریکی بحری جہازوں اور ڈرونز کو متعدد بار خبردار کر چکی ہے۔