

محمود احمد, September 13,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) سے وابستہ ایک سینیئر بحری عہدیدار نے امریکہ کو آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ممکنہ فوجی نقل و حرکت کے حوالے سے سخت تنبیہ کی ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق اگر امریکی بحری جہاز ایرانی ساحلی حدود کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایران اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی میڈیا میں نشر ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے مشہد میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی حکومت کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر خبردار کیا۔ انہوں نے امریکی بحری جہازوں کی ایرانی ساحلی حدود کے قریب ممکنہ موجودگی کو ایران کے لیے حساس معاملہ قرار دیا۔
علی محمدی نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی قیادت ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ ردعمل سے آگاہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں خطے میں بعض واقعات ایران کی عسکری صلاحیت اور نگرانی کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے ان دعوؤں کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ایرانی عہدیدار نے خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق ایران خطے میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتا ہے اور ممکنہ خلاف ورزیوں کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے بحری جہازوں کی نگرانی سے متعلق بھی دعویٰ کیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے انہیں ایرانی عہدیدار کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ یہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کا اہم کردار ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی فوجی کشیدگی سے عالمی شپنگ، توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سکیورٹی پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب خطے میں بحری سکیورٹی اور فوجی نقل و حرکت پہلے ہی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تاہم ایرانی عہدیدار کے بیان سے کسی نئی فوجی کارروائی یا امریکی بحری جہاز کے خلاف عملی اقدام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ایرانی ذرائع میں شائع ہونے والے بیانات کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں ایرانی عہدیدار کے دعووں کو واضح طور پر ان کے بیان کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور جن معلومات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، انہیں حتمی حقیقت کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ خطے کی صورتحال میں مزید پیش رفت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
ماخذ: ایرانی میڈیا رپورٹس