کویت میں امریکی فوج کے ریڈار سسٹمز اور راکٹ لانچنگ تنصیبات پر حملہ؛ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

کاشف عباسی , JULY 21,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کی صبح ایک جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کرتے ہوئے اہم ریڈار سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر کیے گئے اس حملے میں امریکی فوج کے وہ اہم ریڈار اور دفاعی نظام تباہ کر دیے گئے ہیں جو کسی بھی فضائی حملے کی پیشگی اطلاع دینے اور ان کا تدارک کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ایرانی فورسز کے مطابق، ان دفاعی سسٹمز کو ناکارہ بنانے کے بعد ایران کے مزید ڈرونز اور میزائل حملوں کے لیے راستہ صاف ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ایرانی فوج کے بری دستوں نے ‘آپریشن صاعقہ’ کے 18 ویں مرحلے کے تحت زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے عارف جان اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں وہاں تعینات امریکی فوج کے جدید اور متحرک راکٹ لانچنگ سسٹم (ایچ آئی ایم اے آر ایس) کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کی جانب سے اس کارروائی کے ثبوت کے طور پر میزائلوں کے برسات کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور کویتی حکام کی طرف سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ان ادعاؤں پر فی الحال کوئی رسمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکا سے جنگ کا خاتمہ صرف عسکری فتح یا برتری پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مقتدر انتباہ

کاشف عباسی , JULY 20,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری تصادم کے مقتدر تناظر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تزویراتی موقف سامنے رکھا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری یہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گی، کیونکہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر برابری اور برتری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی مذاکرات کا درست وقت تب ہی ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے ملکی قیادت کی حکمتِ عملی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور تمام فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ تزویراتی جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے ملک کو فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے دنیا پر اپنے نظام کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جنگ کے مقتدر محاذ پر ایرانی فوج کے ترجمان نے ایک انتہائی سخت تادیبی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن کو سخت اور مکمل سبق نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی دشمن جنگی سامان آبنائے ہرمز کے ذریعے لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکا کے ساتھ عسکری معاونت کرنے والے تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو استعمال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب مسلسل نویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک مقتدر تزویراتی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی نشریاتی اداروں کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال 20 ہینگرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور تادیبی بیان میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔