

منصور احمد, August 31,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کردہ ’ساہیوال کول پاور پلانٹ‘ نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ قادرآباد، ضلع ساہیوال میں واقع اس عظیم الشان پاور پروجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,320 میگاواٹ ہے، جو کہ 660 میگاواٹ کے دو جدید یونٹس پر مشتمل ہے۔ سی پیک کے باضابطہ ریکارڈز کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.912 ارب ڈالر ہے۔
ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسے کٹھن اور بحرانی وقت میں ریکارڈ مدت کے اندر مکمل ہوا جب پاکستان شدید ترین پاور کرائسز اور ہولناک لوڈشیڈنگ کا شکار تھا، اور بجلی کی عدم دستیابی ملک کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی تباہی کا باعث بن رہی تھی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قومی گرڈ کو بڑے پیمانے پر بلاتعطل اور مسلسل بجلی فراہم کر کے ملک کی بنیادی معاشی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید ’سپر کریٹیکل کوئلہ فائرڈ ٹیکنالوجی‘ کے استعمال کی پہلی اور سب سے بڑی مثال ہے۔ اس جدید ترین تکنیک اور نصب کیے گئے ماحولیاتی سسٹمز کے ذریعے پلانٹ کی ایندھن کارکردگی میں زبردست اضافہ ہوا جبکہ کاربن اور دیگر گیسوں کے اخراج کو عالمی معیار کے مطابق نمایاں حد تک کم رکھا گیا ہے۔
ساہیوال پاور پلانٹ کی اہمیت محض 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس منصوبے نے بڑے پیمانے کے توانائی پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشنل مینجمنٹ اور پاک چین تکنیکی تعاون کے میدان میں گرانقدر تجربات فراہم کیے ہیں۔ ایسے دیو ہیکل بجلی گھر کو محفوظ انداز میں چلانے کے لیے انجینئرنگ، آپریشنز، مینٹیننس، فنانس، ماحولیاتی تحفظ اور سیکیورٹی سمیت تمام شعبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کی گئی ہے، جو قومی گرڈ کی پائیداری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ منصوبہ مقامی افرادی قوت کی فنی تربیت اور پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بڑا ذریعہ بنا۔ پاکستانی انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے چینی ماہرین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہوئے جدید پاور جنریشن ٹیکنالوجی کو چلانے اور سنبھالنے کا عملی تجربہ حاصل کیا، جس سے ملکی توانائی کے شعبے کی تکنیکی استعداد کو غیر معمولی تقویت ملی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے شمسی، ہوائی اور پن بجلی کے ساتھ ساتھ ساہیوال پاور پلانٹ جیسی قابلِ اعتماد بیس لوڈ پاور کی موجودگی اشد ضروری ہے۔ یہ پروجیکٹ محض ایک بجلی گھر نہیں بلکہ سی پیک کے توانائی وژن، پائیدار بنیادی ڈھانچے اور پاکستان کی صنعتی و معاشی ترقی کا ایک تاریخی باب ہے۔