سخت سفری اور میڈیا پابندیوں کے باعث تبت میں 546 لاپتہ شہریوں اور 226 غیر ملکی زائرین کی صورتحال پر پراسرار پردہ، سی سی ٹی وی کی محدود رپورٹس پر انحصار

منصور احمد, August 30,2026

پیکنگ/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چین کا ہمالیائی خطہ تبت ایک بار پھر شدید قدرتی آفت، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، تاہم چینی ریاست کے سخت ترین کنٹرول، میڈیا سنسرشپ اور معلومات کی رسائی پر عائد کڑی پابندیوں کی وجہ سے وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کا حقیقی اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ تبت چین کے ان حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سنہ 1950ء کی دہائی میں چین کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد سے ہی ریاستی اور انتظامی سطح پر انتہائی سخت سیاسی و سیکیورٹی کنٹرول نافذ ہے۔

تبت کے عوام طویل عرصے سے خطے کی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، جس کے باعث چینی حکومت وہاں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج، تنظیم سازی یا بدامنی کو روکنے کے حوالے سے انتہائی محتاط اور سخت رویہ رکھتی ہے۔ اسی سیاسی و سیکیورٹی حساسیت اور ممکنہ بے چینی کے پیشِ نظر حالیہ ہولناک قدرتی آفت کے فوراً بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود آگے بڑھ کر ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کے روز خود متاثرہ تبت کے دشوار گزار خطے میں پہنچے۔ کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے بعد چینی اعلیٰ قیادت کا اتنا فوری اور بلا تاخیر دورہ عالمی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پیدا ہونے والی انتظامی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔

تبت کی جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں بیرونی دنیا کے لیے تقریباً بند ہیں۔ وہاں غیر ملکی شہریوں، سیاحوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے داخلے کے لیے عام چینی ویزے کے علاوہ متعدد خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا کی تبت تک رسائی مکمل طور پر ممنوع یا انتہائی محدود ہے اور مقامی تبت شہریوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ قائم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ نیپال کے راستے ہندوؤں اور بدھ مت پیروکاروں کے مقدس پہاڑ ‘کلاس پربت’ کی زیارت کے لیے جانے والے مذہبی زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف نوعیت کے الگ الگ اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی حاصل کردہ ملٹری کلیرنس بھی شامل ہے۔ اس کڑی ناکہ بندی کی وجہ سے تبت کے اندر آنے والے سیلاب کی اصل شدت اور نقصانات جاننے کے لیے دنیا کو صرف چینی سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کی محتاط رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سنیچر کی شام تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی باضابطہ تعداد 16 ہو چکی ہے، جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں مقدس مقامات کی زیارت اور ٹریکنگ کے لیے آئے ہوئے 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ لاپتہ شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود تبتی علاقوں میں اطلاعات کا شدید قحط ہے۔

نیپال اور تبت میں سیلابی ریلوں اور تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے عام عوام کی لاعلمی کا بنیادی سبب چین کا انتہائی مربوط اور طاقتور ڈیجیٹل و میڈیا سنسرشپ کا نظام ہے، جسے ‘دی گریٹ فائر وال آف چائنا’ کہا جاتا ہے۔ چین میں عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مکمل طور پر بلاک ہیں اور مقامی ایپس پر تبت کے سیلاب، لاپتہ افراد یا مقامی شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کو الگورتھم کی مدد سے فوری حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ ریاست کا مثبت امیج متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، چین میں کسی بھی قدرتی آفت کے وقت خبروں کو صرف سرکاری اداروں کے فلٹر شدہ بیانیے کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جہاں تمام تر توجہ تباہی کے المناک مناظر کی بجائے حکومتی و عسکری امدادی کارروائیوں اور وزیراعظم کے دورے کو اجاگر کرنے پر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی، تبت میں ہنگامی حالات کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو مقامی سطح پر معطل یا انتہائی سست کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی باشندے اپنے رشتہ داروں یا دیگر صوبوں میں موجود شہریوں کو تصویریں اور ویڈیوز بھیجنے سے قاصر رہتے ہیں اور عام لوگ اصل حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔