نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد معجزانہ ریسکیو: زیرِ زمین سرنگ سے 9 دن بعد دو افراد زندہ نکال لیے گئے

محمود احمد, September 04,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے ہولناک واقعے کے بعد ٹریشولی 3ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیرِ زمین سرنگ میں پھنسے دو افراد کو نو دن کی طویل اور کٹھن جدوجہد کے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے، جسے عالمی و مقامی امدادی ٹیموں نے ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔

نیپالی سرکاری حکام کے مطابق سرنگ سے باحفاظت نکالے گئے دونوں افراد کی شناخت سنجے شاہ اور کبیر مہرجن کے نام سے ہوئی ہے جو مذکورہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے ہی ملازم ہیں۔ دونوں افراد کو سرنگ سے نکالتے ہی فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مرکزی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس پیچیدہ اور خطرناک امدادی کارروائی میں بھارت کے سرنگ حادثے میں شہرت پانے والے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات اور عالمی ٹنلنگ انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے انتہائی اہم تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ آرنلڈ ڈکس نے بتایا کہ ریسکیو عملے کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرنگ کے اصل داخلی راستے کا تعین کرنا تھا، کیونکہ سیلاب کے ساتھ آنے والے دیوہیکل ملبے اور چٹانوں نے پورے علاقے کی جغرافیائی ساخت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور پرانا راستہ گہرے ملبے تلے دب چکا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی ٹیموں نے پرانی انجینیئرنگ ڈرائنگز، لینڈ میپس، جدید سیٹلائٹ تصاویر اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ڈرون ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ممکنہ راستے کا سائنسی تخمینہ لگایا، جس کے بعد مسلسل کھدائی کر کے کاوشوں کو بارآور بنایا گیا۔

آرنلڈ ڈکس نے اس کامیاب ریسکیو کو “معجزوں پر معجزہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ زمین پاور سٹیشن کے بعض حصوں میں ہوائی جیبیں موجود تھیں جنہوں نے آکسیجن اور زندگی کی رمق کو برقرار رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

راسووا سیلاب کے بعد ملکی انفراسٹرکچر کی سب سے بڑی تباہی: 19 پل متاثر، 40 کلو میٹر طویل سڑک کو نقصان اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سخت سفری اور میڈیا پابندیوں کے باعث تبت میں 546 لاپتہ شہریوں اور 226 غیر ملکی زائرین کی صورتحال پر پراسرار پردہ، سی سی ٹی وی کی محدود رپورٹس پر انحصار

منصور احمد, August 30,2026

پیکنگ/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چین کا ہمالیائی خطہ تبت ایک بار پھر شدید قدرتی آفت، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، تاہم چینی ریاست کے سخت ترین کنٹرول، میڈیا سنسرشپ اور معلومات کی رسائی پر عائد کڑی پابندیوں کی وجہ سے وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کا حقیقی اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ تبت چین کے ان حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سنہ 1950ء کی دہائی میں چین کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد سے ہی ریاستی اور انتظامی سطح پر انتہائی سخت سیاسی و سیکیورٹی کنٹرول نافذ ہے۔

تبت کے عوام طویل عرصے سے خطے کی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، جس کے باعث چینی حکومت وہاں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج، تنظیم سازی یا بدامنی کو روکنے کے حوالے سے انتہائی محتاط اور سخت رویہ رکھتی ہے۔ اسی سیاسی و سیکیورٹی حساسیت اور ممکنہ بے چینی کے پیشِ نظر حالیہ ہولناک قدرتی آفت کے فوراً بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود آگے بڑھ کر ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کے روز خود متاثرہ تبت کے دشوار گزار خطے میں پہنچے۔ کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے بعد چینی اعلیٰ قیادت کا اتنا فوری اور بلا تاخیر دورہ عالمی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پیدا ہونے والی انتظامی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔

تبت کی جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں بیرونی دنیا کے لیے تقریباً بند ہیں۔ وہاں غیر ملکی شہریوں، سیاحوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے داخلے کے لیے عام چینی ویزے کے علاوہ متعدد خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا کی تبت تک رسائی مکمل طور پر ممنوع یا انتہائی محدود ہے اور مقامی تبت شہریوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ قائم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ نیپال کے راستے ہندوؤں اور بدھ مت پیروکاروں کے مقدس پہاڑ ‘کلاس پربت’ کی زیارت کے لیے جانے والے مذہبی زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف نوعیت کے الگ الگ اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی حاصل کردہ ملٹری کلیرنس بھی شامل ہے۔ اس کڑی ناکہ بندی کی وجہ سے تبت کے اندر آنے والے سیلاب کی اصل شدت اور نقصانات جاننے کے لیے دنیا کو صرف چینی سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کی محتاط رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سنیچر کی شام تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی باضابطہ تعداد 16 ہو چکی ہے، جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں مقدس مقامات کی زیارت اور ٹریکنگ کے لیے آئے ہوئے 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ لاپتہ شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود تبتی علاقوں میں اطلاعات کا شدید قحط ہے۔

نیپال اور تبت میں سیلابی ریلوں اور تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے عام عوام کی لاعلمی کا بنیادی سبب چین کا انتہائی مربوط اور طاقتور ڈیجیٹل و میڈیا سنسرشپ کا نظام ہے، جسے ‘دی گریٹ فائر وال آف چائنا’ کہا جاتا ہے۔ چین میں عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مکمل طور پر بلاک ہیں اور مقامی ایپس پر تبت کے سیلاب، لاپتہ افراد یا مقامی شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کو الگورتھم کی مدد سے فوری حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ ریاست کا مثبت امیج متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، چین میں کسی بھی قدرتی آفت کے وقت خبروں کو صرف سرکاری اداروں کے فلٹر شدہ بیانیے کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جہاں تمام تر توجہ تباہی کے المناک مناظر کی بجائے حکومتی و عسکری امدادی کارروائیوں اور وزیراعظم کے دورے کو اجاگر کرنے پر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی، تبت میں ہنگامی حالات کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو مقامی سطح پر معطل یا انتہائی سست کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی باشندے اپنے رشتہ داروں یا دیگر صوبوں میں موجود شہریوں کو تصویریں اور ویڈیوز بھیجنے سے قاصر رہتے ہیں اور عام لوگ اصل حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔

نیپال اور تبت میں سیلاب کے بعد شدید خطرات: ماہرین کی اہم انتباہی رپورٹ، نئی مصنوعی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ اور چین و نیپال کے درمیان فوری ڈیٹا شیئرنگ پر زور

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحد پار علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر سیلاب اور قدرتی آفات کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے اب نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلی لہر کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال آئندہ دنوں میں کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو فوری طور پر مشترکہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے معروف بین الاقوامی ماہر جیف ڈا کوستا نے عالمی ابلاغی ادارے کو بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے مٹی، پتھروں اور گلیشیائی ملبے نے کئی مقامات پر قدرتی دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے۔ راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے عارضی ذخائر اور نئی جھیلیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے کی صورت میں آنے والا دوسرا سیلاب اگرچہ حجم میں پہلے جتنا بڑا نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیچے بستیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جیف ڈا کوستا نے سائنسی نقطہ نظر سے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور نگرانی کرنا انتہائی اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے کہ علاقے میں بننے والی ان نئی جھیلوں اور پانی کو روکنے والی عارضی رکاوٹوں میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پانی کا دباؤ کس مقام پر سب سے زیادہ ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چین اور نیپال دونوں ممالک کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی سے متعلق حاصل ہونے والی تمام تر سیٹلائٹ اور زمینی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بلا تاخیر شیئر کریں۔

ماہرِ سیلاب ڈا کوستا کا کہنا تھا کہ ہمالیائی بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی سیکیورٹی یا سیلابی صورتحال سرحد کے دوسری جانب نشیب میں رہنے والے لوگوں کو چند منٹوں میں انتہائی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے جس رفتار سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے، معلومات اور الرٹس بھی اسی رفتار سے دونوں ملکوں کے درمیان منتقل ہونے چاہئیں تاکہ مقامی انتظامیہ اور آبادی زمینی سطح پر بروقت، درست اور عملی فیصلے کر کے انسانی جانوں کا تحفظ کر سکے۔

اپنی سائنسی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈا کوستا نے اشارہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم اور کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے پورے سلسلے میں گلیشیئرز، ہزاروں سال سے جمی ہوئی برفانی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ مزید سائنسی تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بغیر اس آفت کو سو فیصد اور براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

نیپال کے سیلاب میں تباہی کی انتہا: ہلاکتیں 675 ہو گئیں، لاشوں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہونے پر اجتماعی تدفین شروع، 2,498 افراد ریسکیو

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال میں آنے والے قیامت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اور دردناک اضافہ جاری ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہنگامی اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں قدرتی آفت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ سخت کوششوں اور سرچ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 2,498 افراد کو خطرناک اور سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں 219 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کے آفت زدہ اضلاع میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث اب ایک نیا اور دلخراش انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور مقتولین کے مرغزاروں میں سرد خانوں اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جبکہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے درجنوں لاشوں کی شناخت اور انہیں ورثا کے حوالے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ گرم موسم اور نمی کے باعث لاشوں کے خراب ہونے کے شدید خطرے کے پیشِ نظر، مقامی انتظامیہ اور نیپالی حکام نے مختلف اضلاع میں برآمد ہونے والی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نیپالی حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں، ٹوٹے ہوئے پلوں اور پہاڑی راستوں پر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید ترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاک فوج، مقامی پولیس اور بین الاقوامی اداروں کی ہیلی کاپٹر سروسز ریسکیو آپریشن میں متحرک ہیں، تاہم ملبے کے نیچے دبے سینکڑوں لاپتہ افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی تحفظ، شناختی کٹس اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں ہنگامی بنیادوں پر مدد کریں۔

بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر کا متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ریڈ کراس کا عالمی امدادی نیٹ ورک متحرک، ہنگامی صورتحال کے پیش نظر امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب ایک اور ممکنہ سیلابی ریلے کے شدید اور سنگین خطرات نے جنم لے لیا ہے، جس پر بین الاقوامی امدادی اداروں اور ریسکیو تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کی بین الاقوامی فیڈریشن کے سربراہ ڈیوڈ فشر نے نیپال کی موجودہ نازک صورتحال اور موسمیاتی خطرات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ادارہ ملک میں کسی بھی وقت دوبارہ آنے والے دوسرے سیلاب کے خطرے کے حوالے سے انتہائی فکر مند ہے اور تمام ٹیموں کو اعلیٰ الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے۔

جمعی کے روز دارالحکومت کھٹمنڈو میں بین الاقوامی پریس کے نمائندوں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیوڈ فشر نے متاثرہ علاقوں کے زمینی حقائق اور اعداد و شمار سے آگاہ کیا۔ ان کے فراہم کردہ مستند ڈیٹا کے مطابق، بدھ کے روز گلیشیئر اور شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک قدرتی تباہی سے اب تک نیپال کے مختلف اضلاع میں تقریباً 93 ہزار سے زائد افراد براہِ راست اور شدید طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔ ان متاثرین میں سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے بنیادی انسانی ضروریات، بشمول ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس ایمرجنسی اور انسانی بحران سے فوری طور پر نمٹنے کے لیے ریڈ کریسنٹ اور ریڈ کراس نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی عطیہ دہندگان، این جی اوز اور عالمی برادری سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سوئس فرانک —جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بنتے ہیں—فراہم کرنے کی باقاعدہ اپیل جاری کر دی ہے۔ ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کا بنیادی اور اولین مقصد متاثرین کے لیے فوری جان بچانے والی ہنگامی امدادی کارروائیاں، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، اور ممکنہ دوسرے سیلاب کے پیشِ نظر پیشگی دفاعی اقدامات کو ممکن بنانا ہے۔

ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ نیپال میں درپیش ہنگامی صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے کے تمام عالمی امدادی نیٹ ورک کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ عالمی ٹیمیں سامانِ زیست اور طبی امداد کے ہمراہ نیپال کے دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں پہنچ رہی ہیں۔ اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ اگر دوسرے ممکنہ سیلاب کا خطرہ حقیقت بنتا ہے تو اس کے اثرات پہلے سے شدید متاثرہ 93 ہزار سے زائد آبادی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے دنیا کو بلا تاخیر مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنا ہوگی۔

چین سے سیلاب سے متعلق معلومات موصول ہو رہی ہیں: نیپالی وزیر خارجہ شیشیر خانال

منصور احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے تصدیق کی ہے کہ نیپال اور چین کے درمیان حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال سے متعلق قریبی رابطہ، تبادلہ خیال اور اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ چینی حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں اور سرحد پار صورتحال کے حوالے سے ضروری معلومات اور ڈیٹا مسلسل موصول ہو رہا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے اس سوال پر کہ بحران کے ابتدائی لمحات میں چین کی طرف سے بروقت معلومات اور الرٹ کیوں فراہم نہیں کیا گیا، وزیر خارجہ شیشیر خانال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی نوعیت انتہائی اچانک اور پیچیدہ تھی، جس کے باعث ممکن ہے کہ خود چینی حکام کے پاس بھی ابتدائی مرحلے میں مکمل، واضح اور مستند معلومات فوری طور پر موجود نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے مابین رابطے مکمل طور پر بحال ہیں اور ضروری تفصیلات و اپ ڈیٹس چین کی جانب سے باقاعدگی سے موصول ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، نیپال اس تباہ کن واقعہ کے فوری بعد سے مسلسل چینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک دوسرے سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ شیشیر خانال نے مزید بتایا کہ چینی حکام نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کی جگہ اور اس کے نتیجے میں بننے والی جھیل کے پانی کی سطح کی جدید آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، بلکہ ممکنہ خطرات، پانی کے بہاؤ اور کسی بھی نئے خطرے کے بارے میں پیشگی معلومات نیپال کو فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کی اس بروقت فراہمی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی نئی ہنگامی صورتحال یا دوبارہ سیلابی ریلے کا خطرہ پیدا ہو، تو نیپالی انتظامیہ کو بروقت حفاظتی اور دفاعی اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے اور عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب کی تبا ہی: ہلاکتیں بڑھ کر 623 ہو گئیں، ہزاروں لاپتہ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے ہنگامی امداد کا آغاز

محمود احمد, August 29,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا/اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال اور اس کے ہمسائے تبت کے سرحدی خطے میں بدھ کے روز گلیشیئر انہدام اور شدید بارشوں کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب کی ہولناکی میں ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکوں، پلوں، اور درجنوں پہاڑی دیہاتوں کو بہا لے جانے والے اس ناگہانی قدرتی آفت کے نتیجے میں دونوں ممالک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 623 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ نیپالی حدود میں 2,000 اور تبت میں 550 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید دردناک اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپال اور تبت میں ہنگامی حالت نافذ کر کے مقامی ریسکیو اداروں، افواج اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بحالی اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

نیپال پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، نیپالی حدود میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 616 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل نیپالی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 579 بتائی تھی، تاہم ملبے اور تباہ شدہ مکانات کی کھدائی کے دوران مزید لاشیں برآمد ہونے پر اعداد و شمار اپ ڈیٹ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب تبت کی سرحد پر چینی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی دیہاتوں میں سیلاب کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے چینی شہریوں کی سرکاری تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے جبکہ 554 افراد تاحال بے نشان اور لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے ڈرون اور ریسکیو کتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے اس انسانی بحران کے تناظر میں بین الاقوامی برادری اور مختلف عالمی ممالک نے نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی کارروائیاں اور امداد کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے نیپار کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر 10 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراک، طبی امداد اور صاف پینے کے پانی کی شدید اور اضطراری ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے متاثرین میں خیمے اور راشن کی تقیسم میں مصروف ہیں۔

دریں اثناء، یورپی یونین کینیڈا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد اہم ممالک نے نیپال کے لیے کروڑوں ڈالر کے ہنگامی مالیاتی پیکج اور بنیادی امدادی سامان بھجوانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نیپالی حکومت کی جانب سے عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے اور سڑکیں تباہ ہو جانے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے لاپتہ 2,000 سے زائد افراد کی تلاش کے لیے دن رات آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

نیپال اور تبت میں خوفناک سیلاب: ہلاکتیں 547 ہو گئیں، 450 غیرملکیوں سمیت 977 افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

منصور احمد, August 28,2026

کاٹھمنڈو / لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 547 ہو گئی ہے، جبکہ 450 سے زائد غیرملکی سیاحوں سمیت کم از کم 977 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کی جانب سے وسیع پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ ملبے اور سیلابی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔ سیلاب کے باعث کئی پہاڑی دیہات اور سیاحتی مقام مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب، تبت کی سرحد پر چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی سیلاب کے نتیجے میں تبتی حدود میں بھی 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 558 افراد لاپتہ ہیں۔ نیپالی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کے ذریعے متاثرہ علاقوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ پھنسے ہوئے مقامی افراد اور غیرملکیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بیشتر لاپتہ افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب: ہلاکتیں 489 ہو گئیں، سینکڑوں لاپتہ، جھیل پھٹنے کا نیا خطرہ

محمود احمد, August 28,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر انہدام اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر ہولناک تباہی مچا دی ہے، جس میں سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، پل بہہ گئے ہیں اور درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ نیپالی حکام اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 489 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے رشتہ دار اور امدادی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں فوج، پولیس اور ہنگامی امدادی ادارے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ دور دراز کے علاقوں تک ریسکیو کارروائیاں پہنچائی جا سکیں۔

صورتحال کو مزید سنگین بناتے ہوئے حکام نے ایک نئے تباہ کن سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بدھ کے روز لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پہاڑی علاقے میں بننے والی عارضی جھیل کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کی جانب نیا سیلابی ریلہ آئے گا۔ اس خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی طور پر لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو تیز کر دیا گیا ہے اور امدادی ادارے کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے اپنے پیاروں کی تلاش اور بنیادی انسانی امداد کی فراہمی کے منتظر ہیں۔

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی دوسری لہر کا خطرہ، ہلاکتیں 332 ہو گئیں: ماہرین کی شدید تشویش

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال میں گلیشیئر انہدام سے آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرینِ ماحولیات نے مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 332 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نیپالی فوج، پولیس اور مقامی امدادی ٹیموں کا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تریبھوون یونیورسٹی کے ‘سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز’ کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے عالمی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ہمالیہ کے بالائی علاقوں کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر آنے والے 24 سے 48 گھنٹوں میں سیلاب کی دوسری اور تیسری تباہ کن لہروں کا خدشہ موجود ہے، جو نچلے علاقوں کو دوبارہ لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔

ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بتایا کہ اگرچہ فی الوقت میدانی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ رکا ہوا ہے، تاہم پہاڑی تودے اور چٹانیں کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے شدید خطرات بدستور برقرار ہیں جس سے ندی نالوں کے راستے مسدود ہو کر مزید تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ نیپالی ماہرین چین میں موجود سائنسدانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہمالیہ کے خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ کی جا سکے۔ سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث پہاڑی خطوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے برف اور چٹانیں غیر مستحکم ہو کر اتنی بڑی تباہی کا سبب بنیں۔ دوسری جانب تباہ شدہ پلوں اور سڑکوں کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

نیپال سیلاب پر پاکستان دفترِ خارجہ کا اظہارِ افسوس: صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کی جانب سے تعزیتی پیغامات

NEPAL-WEATHER-LANDSLIDE-FLOOD

منصور احمد, August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ نے نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے حالیہ ہولناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر شدید رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران نیپالی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے جنم لینے والی انسانی صورتحال، ہلاکتوں اور مالی نقصان پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو گہرا دکھ پہنچا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صدر، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے اپنے علیحدہ تعزیتی پیغامات کے ذریعے نیپالی حکومت، لواحقین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کٹھن اور مشکل وقت میں پوری پاکستانی قوم نیپال میں موجود اپنے بھائیوں اور بہنوں کے غم اور مشکلات میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس قدرتی آفت کے تناظر میں نیپال کے ساتھ ہر ممکن تعزیت اور یکجہتی کے عزم کو دہرایا گیا ہے اور ریسکیو و ریلیف کی کوششوں کی کامرانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ہے۔

نیپال اور تبت میں گلیشیئر پھٹنے سے خوفناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: ہلاکتیں 165 ہو گئیں، 826 افراد لاپتا

محمود احمد, August 27,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر پھٹنے اور ملبے کا زبردست بہاؤ آنے کے باعث تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے قیامت خیز تباہی مچا دی ہے۔ نیپال کی ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 165 ہو گئی ہے، جبکہ 529 غیر ملکی سیاحوں سمیت مجموعی طور پر 826 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی زمینی و فضائی ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ ہولناک سیلاب ایک گلیشیئر کے اچانک انہدام اور اس کے بعد تیزی سے بہنے والے ملبے کے باعث آیا، جس نے نشیبی علاقوں کی عمارتوں، پلوں اور راستوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

تبت کی جانب بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کے مطابق تبت کی گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ وہاں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایک سیاحتی گروپ نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقے میں موجود 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، کا بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ نیپالی فوج نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنے کے لیے 2,000 سے زائد مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں جو ہیلی کاپٹروں اور جدید آلات کی مدد سے محصورین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ تاہم، مسلسل بارشوں، راستوں کی بندش اور پہاڑی تودے گرنے سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے تباہ شدہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاری، 95 افراد جاں بحق جبکہ انڈین شہریوں سمیت سینکڑوں غیر ملکی سیاح لاپتہ

محمود احمد, August 26,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلوں میں اچانک آنے والے خوفناک اور شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 95 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں ملکی اور غیر ملکی سیاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے پانی کے شدید اور تیز ریلوں میں کئی کثیر المنزلہ عمارتیں، رہائشی مکانات، گاڑیاں اور متعدد اہم رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔ سفارتی ذرائع اور نیپالی حکام کے مطابق پہاڑی و سیاحتی علاقوں میں پھنسے اور لاپتہ ہونے والے غیر ملکیوں میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری بھی شامل ہیں، جن سے تاحال رابطہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کا ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم پل بہہ جانے اور سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے علاقوں میں پہنچنے اور ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے انڈین اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے مدد کی اپیل کی ہے۔ موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے جس سے دریاؤں میں طغیانی اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے قریبی محفوظ مقامات پر امدادی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں۔