

کاشف عباسی ,june 18,2026
واشنگٹن (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی طویل عرصے سے جاری سخت بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، واشنگٹن سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل سٹریٹجک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی اور براہِ راست ہدایت پر ایرانی بندرگاہوں اور تمام ساحلی علاقوں کی معاشی و عسکری ناکہ بندی فوری طور پر ہٹا لی گئی ہے، سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک اب بحری آمد و رفت کا راستہ مکمل طور پر صاف ہے اور پٹرولیم و دیگر تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی تاہم تہران حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی حتمی یقین دہانی تک امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے سیکیورٹی کے پیشِ نظر جنرل ایریا میں بدستور موجود رہیں گے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم پیغام میں بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی یہ تمام خبریں سراسر جعلی ہیں اور یہ ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا مایوس کن سیاسی پروپیگنڈا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی بہتری دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین انڈیکس کو دیکھیں۔
مزید برآں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس سخت ترین معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے اور یہ معاہدی بالخصوص امریکی عوام کے مفادات کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے مثبت رویے کو باریک بینی سے مانیٹر کرتے ہوئے ہی اسے مستقبل میں ریلیف فراہم کیا جائے گا اور اس معاشی ریلیف کا تمام تر انحصار تہران کے اپنے ذمہ دارانہ رویے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے پرامن تعلقات پر ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کی روزمرہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ بھی اس عظیم امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ خطے میں جنگ اب کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور بعض میڈیا ہاؤسز کی جانب سے معاہدے کی شقوں کو انتہائی غلط اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، انہوں نے مہم جوئی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سخت معاشی حکمتِ عملی سے ایران کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ تبدیل کر کے امن کی میز پر آنے پر مجبور ہوا لہٰذا یہ امریکہ ایران معاہدہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے ایک بہترین تاریخی پیش رفت ہے۔
جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری گزرگاہ سے ریکارڈ ۱۲.۵ ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا ۶۰ روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے جو اتوار تک متوقع ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ تل ابیب اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں۔