اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یکسر منسوخ کر دیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سفارتی ذرائع کی تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ اور مستقل خاتمے کے لیے تیار کی گئی تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر بطور ثالث دستخط کرنے اور دستخطوں کی یہ تقریب جنیوا کے بجائے الیکٹرانک طور پر ورچوئل انداز میں منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا، شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج رات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونا تھا جہاں وہ اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے تاہم دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ایم او یو پر مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے باعث اب جنیوا میں ہونے والی اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں رہی لہٰذا ان کے بیرونِ ملک دورے کا پورا شیڈول منسوخ کر دیا گیا اور جمعرات کے روز ہی وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس تاریخی امن دستاویز پر بطور ثالث اپنے ڈیجیٹل دستخط ثبت کر دیے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر دنیا بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بڑے عالمی معاہدے کا مرکز، ضامن اور ثالث اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کرنا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ خارجہ پالیسی اور بہترین امن پسند کردار کا ایک واضح ثبوت ہے، اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی مکمل سفارتی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے تھے اور اب اس مقتدر دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس عالمی امن معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک سطح پر حتمی قانونی و آئینی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔
تہران/واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سیاست کے مابین جاری شدید ترین کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی بریک تھرو سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم ۱۴ نکاتی جامع معاہدے پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ تاریخی معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عالمی پیش رفت کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکہ اور ایران کے مابین الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان نے بطورِ ثالث اس تاریخی امن دستاویز کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے اہم ترین جذباتی و سفارتی بیان میں واضح کیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں طاقتور ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں جو اس بات کی ناقابلِ تردید علامت ہے کہ دونوں فریقین طویل تنازع اور جنگ کے مستقل حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سو فیصد سنجیدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے ابتدائی اور بنیادی قدم کے طور پر ایران نے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور بہترین سفارتکاری کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے مخلصانہ وابستگی نے خطے کو ایک ممکنہ ہولناک اور تباہ کن عالمی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جبکہ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک معاشی و سیاسی کوششوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت بشمول رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی اعلیٰ بصیرت اور اسلامی دانشمندی کا اعتراف کرتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی مخلصانہ خدمات کو بھی سراہا اور برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری کردار کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی احترام اور مشترکہ معاشی خوشحالی کی ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہو گی۔
بین الاقوامی بیورو کے مطابق اس دستخطی تقریب کی حیرت انگیز تفصیلات کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران دارالحکومت پیرس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ایک پُرتکلف عشائیے کے موقع پر اس تاریخی ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، اس یادگار موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو باقاعدہ دستاویزات پیش کیں جس پر دستخط مکمل ہوتے ہی فرانسیسی صدر میکرون نے امریکی صدر کو اس عظیم کامیابی پر کھڑے ہو کر دلی مبارکباد پیش کی جبکہ صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے جم غفیر کو فاتحانہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ویڈیو میں امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کر کے مفاہمت کی یادداشت کے خاص فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے تاریخی لمحے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے اور اس کے چند ہی منٹوں بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”ارنا“ نے بھی تہران سے صدر مسعود پزشکیان کی ایک یادگار لائیو تصویر شائع کی جس میں ایرانی صدر نے مسکراتے ہوئے کیمرے کے سامنے اسکرین پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط صاف دکھائی دے رہے تھے، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ معاہدہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں طے شدہ وقت سے پہلے ہی فریقین کی باہمی رضامندی اور جلد عملدرآمد کی خواہش کے باعث الیکٹرانک طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے تاہم جنیوا میں دونوں ممالک کی تکنیکی مذاکراتی ٹیموں کی طے شدہ سٹرٹیجک شرکت اور ملاقات شیڈول کے مطابق بدستور برقرار رہے گی جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اگلے انتظامی مراحل طے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کے حتمی متن پر الیکٹرانک دستخطوں کی مکمل تصدیق کرتے ہوئے ایران کا نپی تلا اور مضبوط موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سٹرٹیجک آبنائے ہرمز کی مکمل سیکیورٹی کا معاملہ صرف ایران اور عمان کی مشترکہ مقتدر ذمہ داری ہے اور اس تجارتی گزرگاہ میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور پروٹیکشن کے بدلے ایران باقاعدہ سروس فیس وصول کرے گا، انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک لبنان پر وحشیانہ حملے اور غاصبانہ قبضہ جاری رہا تو یہ اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی جس کے خلاف ایران سخت ترین جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، اسماعیل بقائی نے ملکی خودمختاری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی عالمی طاقت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایران کا کوئی بھی جوہری مواد ملک سے باہر بھیجا جائے گا البتہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لیے کم درجے پر لانے کا تکنیکی آپشن موجود ہے، انہوں نے واشنگٹن کو یاد دہانی کرائی کہ طے شدہ ۶۰ دنوں کے اندر امریکہ یا کسی دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کوئی نئی معاشی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں، تہران پر عائد تیل کی تمام جابرانہ پابندیاں آج سے ہی ختم ہونی چاہئیں تاکہ ایران اگلے ۶۰ دنوں میں اپنا خام تیل عالمی منڈی میں آزادانہ فروخت کر سکے اور امریکہ اس بات کا قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کو فوری بحال کرنے کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے کیونکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر دنیا کے کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔