خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

پاک سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور برادر ملک میں پیش آنے والے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے اس المکفوف واقعے میں چودہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کی۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے سامنے آنے والے مقتدر بیان کے مطابق، سعودی وزیرِ خارجہ نے اس کڑے وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کے مخلصانہ اور برادرانہ جذبات کو مقتدر طور پر سراہا اور نائب وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تزویراتی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور ارد گرد کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس پختہ عزم کو دہرایا کہ ملک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے طے شدہ اصولوں کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام اور استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔ رابطے کے دوران سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ باہمی طور پر طے پانے والی مناسب تواریخ پر بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا نائب وزیرِ اعظم نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اعلیٰ سطحی دورہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔

پاک بحرین سفارتی روابط: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی سے ٹیلیفونک گفتگو، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے بعد خطے کی صورتحال پر تبادلہ

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (سفارتی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے مابین ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے تزویراتی اہمیت کی حامل “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر دستخط کے بعد خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے گفتگو کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے تاریخی سنگِ میل پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے علاقائی تنازعات کے حل اور باہمی مفاہمت کے حصول میں پاکستان کے تعمیری و کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے پختہ امید ظاہر کی کہ یہ بڑی پیش رفت خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے قیام میں انتہائی معاون ثابت ہوگی۔ بحرینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کریں گے تاکہ خطے میں جنگ بندی کے کامیاب حصول کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و کمانڈر ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی غیر معمولی اور انتھک کاوشوں پر ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کر سکیں۔

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بحرینی ہم منصب کے تعریفی کلمات اور نیک جذبات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح خطے کے نازک مسائل کو مکالمے اور فعال سفارت کاری کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر تعمیری کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

پاک سعودی برادرانہ تعلقات: پاکستان کی امن کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے، سعودی عرب سمیت برادر ممالک کی حمایت نہایت اہم رہی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تبوک کے گورنر سے ٹیلیفون پر گفتگو

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی تمام تر امن کوششوں کا واحد اور بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا فروغ ہے، جس میں سعودی عرب سمیت تمام مقتدر برادر ممالک کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت ہمیشہ نہایت اہم اور کلیدی رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے تزویراتی صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے بدھ کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ٹیلیفونک گفتگو نہایت گرمجوشی، مقتدر خیرسگالی اور روایتی برادرانہ ماحول میں ہوئی۔

اس مقتدر رابطے کے دوران گورنر تبوک نے عالمی سفارتی منظرنامے پر پاکستان کی تاریخی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تاریخی حصول میں پاکستان کی غیر معمولی، انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی۔ وزیرِ اعظم نے تہنیتی کلمات پر گورنر تبوک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں ثالثی اور امن کا خواہاں رہا ہے، اور اس عظیم مقصد کی تکمیل برادر ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی اور سٹریٹجک برادرانہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان اور اس کے عوام سے گہری محبت، مقتدر لگن اور مستقل خیرسگالی کے جذبات پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔ گفتگو کے اختتام پر، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے کے لیے گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کو جلد سے جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی پرخلوص دعوت بھی دی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ منسوخ، امریکہ ایران امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے باعث فیصلہ

کاشف عباسی ,june 18,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یکسر منسوخ کر دیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سفارتی ذرائع کی تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ اور مستقل خاتمے کے لیے تیار کی گئی تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر بطور ثالث دستخط کرنے اور دستخطوں کی یہ تقریب جنیوا کے بجائے الیکٹرانک طور پر ورچوئل انداز میں منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا، شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج رات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونا تھا جہاں وہ اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے تاہم دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ایم او یو پر مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے باعث اب جنیوا میں ہونے والی اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں رہی لہٰذا ان کے بیرونِ ملک دورے کا پورا شیڈول منسوخ کر دیا گیا اور جمعرات کے روز ہی وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس تاریخی امن دستاویز پر بطور ثالث اپنے ڈیجیٹل دستخط ثبت کر دیے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر دنیا بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بڑے عالمی معاہدے کا مرکز، ضامن اور ثالث اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کرنا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ خارجہ پالیسی اور بہترین امن پسند کردار کا ایک واضح ثبوت ہے، اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی مکمل سفارتی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے تھے اور اب اس مقتدر دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس عالمی امن معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک سطح پر حتمی قانونی و آئینی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔