وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کا ”فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026“ سے انقلابی خطاب، 68 فیصد نوجوان آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ایٹمی طاقت سے بڑی قوت قرار دے دیا، رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ہدف، ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے میرٹ پر روزگار اور تربیت فراہم کرنے کا تاریخی عزم

منصور احمد june 16,2026

فیصل آباد (ایجوکیشن اینڈ یوتھ ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان اس ملک کی سب سے بڑی طاقت، چمکتا ہوا اثاثہ اور روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں جنہیں جدید علوم، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)، ڈیجیٹل معیشت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مواقع سے جوڑ کر قومی ترقی کا حقیقی معمار بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے نوجوان سچے عزم، جدید مہارت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنا لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں عالمی قیادت حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی اور وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی دنیا کے امیر اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں، صنعتی شہر فیصل آباد میں والنٹیئر فورس پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ شاندار اور تاریخی ”فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026“ سے بطور مہمانِ خصوصی اپنے ولولہ انگیز خطاب میں رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا اصل مقصد ملک کے نوجوانوں کو مروجہ روایتی تعلیم سے ہٹ کر جدید قیادت، مضبوط کردار سازی اور بے لوث قومی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے کیونکہ کامیابی کا سفر ہمیشہ کڑی محنت، خود احتسابی اور مستقل مزاجی سے ہی شروع ہوتا ہے۔

چیئرمین یوتھ پروگرام نے عالمی مارکیٹ کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا اب روایتی معیشت سے نکل کر تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور حکومتِ پاکستان بھی ان اہم ترین شعبوں میں جدید پالیسی سازی اور انقلابی عملی اقدامات کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہائی ٹیک مہارتیں فراہم کرنے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام نوجوانوں کو بہترین مواقع، چمکتے ہوئے پلیٹ فارم اور اربوں روپے کے وسائل فراہم کرنا ہے، تاہم ان سنہرے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا اب نوجوانوں کی اپنی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے، رانا مشہود احمد خان نے کانفرنس کے شرکاء کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اہم انکشاف کیا کہ حکومت نے رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو مختلف سرکاری پروگراموں، بلاسود قرضوں اور لیپ ٹاپ اسکیموں کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ۲۰ لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی مفت بین الاقوامی تربیت فراہم کرنے اور لاکھوں افراد کے لیے باعزت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی دن رات کام جاری ہے۔

انہوں نے کلائمیٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کو اس وقت کا سب سے بڑا اور خطرناک عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین اکانومی، ماحولیاتی تحفظ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی جیسے جدید شعبوں میں اب پاکستانی نوجوانوں کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے، رانا مشہود احمد خان نے کانفرنس میں موجود طلبہ اور نوجوانوں پر سخت زور دیا کہ وہ فوری طور پر حکومت کے آفیشل ”ڈیجیٹل یوتھ ہب“ پر اپنی آن لائن رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم، بہترین انٹرن شپس، روزگار اور جدید ترین ٹیکنیکل ٹریننگ تک رسائی کسی بھی سفارش کے بغیر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر حاصل ہو سکے، انہوں نے عزم دہرایا کہ موجودہ حکومت ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام پسماندہ علاقوں اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو یکساں تعلیمی و معاشی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ کوئی بھی ہونہار نوجوان وسائل کی کمی کی وجہ سے ترقی کے اس قومی سفر سے پیچھے نہ رہ جائے، انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس جملے پر کیا کہ پاکستان کا حال اور مستقبل اب مکمل طور پر نوجوانوں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے، اس لیے یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے اور تعمیرِ وطن میں اپنا خون پسینہ بہانے کا ہے