وفاقی حکومت کا ایندھن اور اخراجات میں کمی کے لیے نئے سخت کفایت شعاری اقدامات کا اعلان

کاشف عباسی , September 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء

وفاقی حکومت نے ملکی معیشت پر دباؤ اور توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ایندھن کی بچت اور سرکاری اخراجات میں ڈرامائی کمی کے لیے نیا سخت کفایت شعاری پیکیج نافذ کر دیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے تحت تمام سرکاری گاڑیوں کے ایندھن (فیول کوٹہ) میں آئندہ تین ماہ کے لیے 50 فیصد کی سیدھی کمی کر دی گئی ہے۔ اس اہم اقدام کے ساتھ ساتھ سرکاری خریداری، غیر ملکی دوروں، پرتعیش تقریبات اور کاروباری اوقات کار پر بھی کڑی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

حکومت نے نوٹیفکیشن میں واضح کیا ہے کہ دفاعی و سلامتی کی حساس ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہنگامی و ضروری خدمات، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی آپریشنل گاڑیوں اور مختلف ترقیاتی منصوبوں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ایندھن میں کمی کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے تمام سرکاری اداروں میں نئی گاڑیوں اور دیگر پائیدار اشیا (سوائے آئی ٹی آلات) کی تمام اقسام کی نئی خریداری پر مکمل طور پر پابندی لگا دی ہے تاکہ دستیاب قومی وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر بچایا جا سکے۔

کفایت شعاری پیکیج کے تحت آئندہ تین ماہ کے لیے تمام سرکاری افسران اور وفاقی وزرا کے بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی رہے گی، جبکہ انتہائی ناگزیر سرکاری دوروں کے لیے صرف اکانومی کلاس میں سفر کی اجازت ہو گی۔ سرکاری اجلاسوں کو فوری طور پر آن لائن اور ٹیلی کانفرنسنگ پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور غیر ملکی وفود کے علاوہ تمام سرکاری اخراجات پر عشائیوں اور افطار پارٹیوں کی میزبانی کو یکسر روک دیا گیا ہے۔ اسی طرح سرکاری فنڈز سے پرائیویٹ ہوٹلوں میں سیمینارز اور کانفرنسز پر پابندی عائد کرتے ہوئے ناگزیر اجلاسوں کو صرف سرکاری کمیٹی رومز تک محدود کر دیا گیا ہے۔

عوام اور تاجر برادری کے لیے توانائی بچت منصوبے کے تحت بازار، دکانیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے، میرج ہالز اور مارکیز رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹس اور کیفے رات 11 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم ٹیک اوے، ہوم ڈیلیوری، فارمیسی، ہسپتال، پیٹرول پمپس، تندور، ڈیری شاپس اور آئی ٹی کال سینٹرز کو ان اوقات کار سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے۔ یہ تمام تر اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت نے کم آمدنی والے طبقے اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے 800 سی سی فیول ریلیف اسکیم پہلے ہی شروع کر رکھی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وفاقی کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ کفایت شعاری نوٹیفکیشن اور وزارتِ خزانہ کے گائیڈ لائنز کے عین مطابق مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: خبر رساں ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔