

کاشف عباسی , September 11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء
پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی (ہلال احمر پاکستان) کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس کے زیر اہتمام جرمن ریڈ کراس کے خصوصی تعاون سے منعقدہ دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔
اس دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر کے موسمیاتی خطرپذیری کا شکار اضلاع سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد نمائندہ صحافیوں اور فیلڈ رپورٹرز نے متحرک شرکت کی۔
ورکشاپ کے ابتدائی سیشنز میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کے نمائندگان سجاد علی کندھیر اور مرتضیٰ تالپور نے تربیتی مقاصد پر بریفنگ دی، جبکہ جرمن ریڈ کراس کے آصف امان اور پروگرام کوآرڈینیٹر غلام رسول فاروقی نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ دارانہ اور اثر انگیز صحافت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں، ادارے کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن شیر زمان نے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی تاریخ، مینڈیٹ اور بالخصوص پاکستان میں جاری انسانی خدمات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریحان علی نے معاونت فراہم کی۔
تربیتی نشستوں کے دوران ماحول اور موسمیاتی امور کی ماہر صحافی انیبہ وقار نے موسمیاتی سائنس، سٹوری ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ پالیسی اور تحریری مشقوں پر خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا، جبکہ براڈکاسٹ جرنلسٹ عبدالرزاق کھٹی نے جدید موبائل جرنلزم (MoJo) کے تکنیکی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ میں کلائمیٹ ڈیٹا جرنلزم، روزمرہ کی خبروں کے موسمیاتی زاویے اور انسانی مرکز کہانیوں کی تشکیل پر عملی کام کروایا گیا اور صحافیوں کو ماہرین سے براہِ راست فیڈ بیک فراہم کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان فرزانہ نائیک نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ موسمیاتی اقدامات کی شروعات ایسے پائیدار حل سے ہونی چاہیے جو مقامی آبادیوں کی حقیقی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں نے صحافیوں کی کارکردگی اور Capacity Building کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نمائندگان متاثرہ کمیونٹیز کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچانے کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔
سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محمد عبیداللہ خان نے اختتامی گفتگو میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ملک بھر میں عام شہریوں کے روزگار، صحت اور انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے درست اور حقائق پر مبنی کلائمیٹ رپورٹنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے سے پالیسی سازوں اور متاثرہ عوام کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔