وزیرِ اعظم کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کی جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل؛ ایچ ای سی نے رپورٹ جاری کر دی

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری و نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا جامع کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس جائزے کے دوران صوبے کی 15 سے زائد نمایاں جامعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آئی ٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے 8 بنیادی معیارات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں نصاب کی ترتیب، تجربہ گاہوں (لیبز) اور دیگر سہولیات، تدریسی عملے کی اہلیت، انتظامی فریم ورک اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

ایچ ای سی نے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت پیش رفت کر رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس جائزے کی سفارشات سے نتائج پر مبنی تعلیم ، انڈسٹری لنکجز اور تعلیمی وسائل کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔