علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت: ایچ ای سی اور اسلام آباد چیمبر کے درمیان اکیڈمیا اور صنعتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے باہمی اشتراک سے اعلیٰ تعلیمی اداروں (اکیڈمیا) اور ملکی صنعتی شعبے کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی کی کمرشلائزیشن کے فروغ کے لیے ایک اہم راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا ہے۔

آئی سی سی آئی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت آئی سی سی آئی کے صدر سردار طاہر محمود نے کی، جبکہ ایچ ای سی کے ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن کی نمائندگی رکن ڈاکٹر سید حبیب بخاری نے کی۔ اجلاس میں ملک بھر کی ممتاز جامعات کے دفاتر برائے تحقیق، جدت و کمرشلائزیشن (ORICs)، بزنس انکیوبیشن سینٹرز کے سربراہان اور تاجر و صنعتی برادری کے سرکردہ نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایچ ای سی کے مجوزہ جوائنٹ ریسرچ فریم ورک اور ماڈل معاہدوں کے مسودوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ان اہم تجاویز میں جامعات اور صنعتی اداروں کے درمیان باہمی تحقیقی تعاون، مقامی صنعت کی ضروریات کے عین مطابق ریسرچ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کے تحفظ اور تحقیقی نتائج کو تجارتی مصنوعات و خدمات میں تبدیل کرنے کے جامع طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایچ ای سی حکام کے مطابق، پاکستان میں علم پر مبنی معیشت (Knowledge-Based Economy) کے قیام اور پائیدار ترقی کے لیے صنعت اور اکیڈمیا کا باقاعدہ جڑا ہوا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس مقصد کی خاطر ایچ ای سی نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں ORICs اور ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن سپورٹ سینٹرز جیسے باقاعدہ ادارہ جاتی نظام قائم کر رکھے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے زور دیا کہ اکیڈمیا اور انڈسٹری کے مضبوط شراکت دارانہ ماحول سے نہ صرف یونیورسٹیوں کی تحقیق کو تجارتی شکل ملے گی بلکہ طلبہ کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کر کے روزگار کے مواقع اور ملکی صنعتی مسابقت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس (ICCI) کے مشترکہ اعلامیے اور راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز پر مبنی ہے۔ اس مشترکہ فریم ورک پر عملدرآمد سے ملکی صنعت کو جدید تحقیق سے فائدہ اٹھانے کے پائیدار مواقع میسر آئیں گے۔

ماخذ: ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پریس ریلیز، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ICCI)۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تھیٹر ہال کا شاندار افتتاح

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مرکزی اکیڈمک کمپلیکس میں علم و ادب، ثقافتی اقدار اور تخلیقی سرگرمیوں کے ہمہ گیر فروغ کے لیے تمام جدید ترین سہولیات سے آراستہ ایک وسیع تھیٹر ہال کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔

افتتاح کیا جانے والا یہ جدید تھیٹر ہال یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ کو روایتی نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آزادانہ اظہارِ خیال، پوشیدہ تخلیقی صلاحیتوں، فنونِ لطیفہ اور متنوع ثقافتی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بلاشبہ موثر اور جدید ترین قومی پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ اس پروقار افتتاحی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود، یونیورسٹی کے سرکردہ اساتذہ، اور شعبہ جات کے پرنسپل افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس نو تعمیر شدہ تھیٹر ہال میں پہلی علمی و ادبی تقریب کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس اور ممتاز ترین ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی شہرہ آفاق کتاب “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” کی باقاعدہ رونمائی کی گئی، جس کی صدارت کا اعزاز چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سنبھالا۔

تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کے اندر معیاری اور عالمی سطح کی تعلیم کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے باصلاحیت، جدید تربیت یافتہ اور بلند کردار استاد کا ہونا بنیادی طور پر ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ استاد صرف کتابی معلومات کا امین یا ناقل نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنے طلبہ، ان کے والدین اور پورے معاشرے کے لیے ایک عملی نمونہ اور حقیقی رول ماڈل ہونا چاہیے۔ دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے عالمی اور تعلیمی تقاضوں کے پیشِ نظر انہوں نے اساتذہ کی علمی، تدریسی اور جدید پیشہ ورانہ تربیت پر بلا تعطل مسلسل توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ “ٹیچر ایجوکیشن ان پاکستان” ایک بلاشبہ معرکہ الآرا کتاب ہے جو اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، ان کے معاشرتی کردار اور پیشہ ورانہ ترقی کے بنیادی پہلوؤں کو باریک بینی سے سمجھنے میں مشعلِ راہ ثابت ہوگی، جس کا تمام اساتذہ کو لازمی مطالعہ کرنا چاہیے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے مصنفہ پروفیسر ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا کی دہائیوں پر محیط علمی و تدریسی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منور سلطانہ مرزا ملکی تعلیم و تدریس کے میدان میں ایک نہایت معتبر، صاحبِ بصیرت اور قابلِ فخر شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریر کردہ کتاب ان کی سالہا سال کی فکری کاوش، عمیق تجربے اور سائنسی بصیرت کا بہترین مظہر ہے جو تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔

افتتاحی تقریب سے وفاقی وزارتِ تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری حسن ثقلین، پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم، سابق وائس چانسلر و پروفیسر ایمریٹس پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر افشاں ہما نے بھی خطاب کیا۔ تمام مقررین نے اس کتاب کو ملک میں اساتذہ کی تربیت کے موضوع پر ایک انتہائی جامع اور بروقت تحقیقی کاوش قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

ایچ ای سی ریویو پینل کا ویمن یونیورسٹی ملتان کا دورہ؛ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی پروگرامز کے معیار کا جامع جائزہ

روزینہ اسماعیل, JULY 23,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک اعلیٰ سطحی ریویو پینل نے ویمن یونیورسٹی ملتان کا تفصیلی دورہ مکمل کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تدریسی، تحقیقی اور انتظامی معیار کا جامع معائنہ کیا ہے۔

اس دورے کا بنیادی مقصد کمپیوٹنگ پروگرامز میں نئے داخلوں پر عائد عارضی پابندی سے متعلق تحفظات کا جائزہ لینا، یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے اصلاحی اقدامات کا معائنہ کرنا اور ایچ ای سی کے مقررہ معیارات کی روشنی میں تفصیلی رپورٹ مرتب کرنا تھا۔

ریویو پینل کی قیادت وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے بطور کنوینر کی، جبکہ پینل کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر عدیل انجم، ڈاکٹر مریم اکبر، ڈاکٹر محمد ارشد اعوان اور سید محمد علی عباس شامل تھے۔ یونیورسٹی آمد پر وفد کا استقبال رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق اور ڈائریکٹر آئی ٹی ڈاکٹر خدیجہ کنول نے کیا۔

رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق اور ڈاکٹر خدیجہ کنول نے پینل کو بتایا کہ ویمن یونیورسٹی ملتان اعلیٰ تعلیم، جدید لیبارٹریز، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کے فروغ کے لیے ایچ ای سی کی پالیسیوں پر مکمل عمل پیرا ہے اور طالبات کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

ریویو پینل نے دورے کے دوران کمپیوٹر لیبارٹریز، کلاس رومز، فیکلٹی پروفائلز، جدید نصاب، امتحانی نظام، کیریئر کونسلنگ اور گزشتہ تین سالہ تعلیمی و انتظامی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ وفد نے یونیورسٹی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حاصل شدہ مشاہدات کی بنیاد پر جامع سفارشات ایچ ای سی کو ارسال کی جائیں گی، جس کی روشنی میں آئندہ داخلوں سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کی جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل؛ ایچ ای سی نے رپورٹ جاری کر دی

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری و نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا جامع کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس جائزے کے دوران صوبے کی 15 سے زائد نمایاں جامعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آئی ٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے 8 بنیادی معیارات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں نصاب کی ترتیب، تجربہ گاہوں (لیبز) اور دیگر سہولیات، تدریسی عملے کی اہلیت، انتظامی فریم ورک اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

ایچ ای سی نے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت پیش رفت کر رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس جائزے کی سفارشات سے نتائج پر مبنی تعلیم ، انڈسٹری لنکجز اور تعلیمی وسائل کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔