ایچ ای سی ریویو پینل کا ویمن یونیورسٹی ملتان کا دورہ؛ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی پروگرامز کے معیار کا جامع جائزہ

روزینہ اسماعیل, JULY 23,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک اعلیٰ سطحی ریویو پینل نے ویمن یونیورسٹی ملتان کا تفصیلی دورہ مکمل کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تدریسی، تحقیقی اور انتظامی معیار کا جامع معائنہ کیا ہے۔

اس دورے کا بنیادی مقصد کمپیوٹنگ پروگرامز میں نئے داخلوں پر عائد عارضی پابندی سے متعلق تحفظات کا جائزہ لینا، یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے اصلاحی اقدامات کا معائنہ کرنا اور ایچ ای سی کے مقررہ معیارات کی روشنی میں تفصیلی رپورٹ مرتب کرنا تھا۔

ریویو پینل کی قیادت وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر، پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے بطور کنوینر کی، جبکہ پینل کے دیگر ارکان میں ڈاکٹر عدیل انجم، ڈاکٹر مریم اکبر، ڈاکٹر محمد ارشد اعوان اور سید محمد علی عباس شامل تھے۔ یونیورسٹی آمد پر وفد کا استقبال رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق اور ڈائریکٹر آئی ٹی ڈاکٹر خدیجہ کنول نے کیا۔

رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق اور ڈاکٹر خدیجہ کنول نے پینل کو بتایا کہ ویمن یونیورسٹی ملتان اعلیٰ تعلیم، جدید لیبارٹریز، فیکلٹی ڈویلپمنٹ اور آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن کے فروغ کے لیے ایچ ای سی کی پالیسیوں پر مکمل عمل پیرا ہے اور طالبات کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

ریویو پینل نے دورے کے دوران کمپیوٹر لیبارٹریز، کلاس رومز، فیکلٹی پروفائلز، جدید نصاب، امتحانی نظام، کیریئر کونسلنگ اور گزشتہ تین سالہ تعلیمی و انتظامی ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ وفد نے یونیورسٹی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ حاصل شدہ مشاہدات کی بنیاد پر جامع سفارشات ایچ ای سی کو ارسال کی جائیں گی، جس کی روشنی میں آئندہ داخلوں سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم کی ہدایات پر خیبر پختونخوا کی جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کا کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل؛ ایچ ای سی نے رپورٹ جاری کر دی

روزینہ اسماعیل, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں خیبر پختونخوا کی مختلف سرکاری و نجی جامعات میں کمپیوٹنگ کے تعلیمی پروگراموں کا جامع کوالٹی اشورنس جائزہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، افادیت اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس جائزے کے دوران صوبے کی 15 سے زائد نمایاں جامعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف صوابی، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آئی ٹی، زرعی یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی اور فاٹا یونیورسٹی سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ماہرین پر مشتمل جائزہ ٹیموں نے 8 بنیادی معیارات کا تفصیلی معائنہ کیا، جن میں نصاب کی ترتیب، تجربہ گاہوں (لیبز) اور دیگر سہولیات، تدریسی عملے کی اہلیت، انتظامی فریم ورک اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ سے تفصیلی ملاقاتیں بھی کی گئیں۔

ایچ ای سی نے رپورٹ میں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کمپیوٹنگ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور اپنے پروگراموں کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مثبت پیش رفت کر رہی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس جائزے کی سفارشات سے نتائج پر مبنی تعلیم ، انڈسٹری لنکجز اور تعلیمی وسائل کی پائیدار ترقی میں مدد ملے گی۔