بنگلہ دیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی و معاشی فریم ورک میں شمولیت کا اشارہ: انڈین میڈیا میں شدید تشویش، نئی علاقائی صف بندی پر بحث چھڑ گئی

کاشف عباسی , August 23,2026

ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر کے ایک تازہ ترین اور اہم ترین سفارتی بیان نے جنوب ایشیائی خطے بالخصوص انڈین صحافتی و سیاسی حلقوں میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے بنگلہ دیش سنگباد سنستھا (بی ایس ایس) سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم طارق رحمان کے قریبی ساتھی ہمایوں کبیر نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پنپنے والے کسی بھی مجوزہ معاشی یا دفاعی فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کے حوالے سے انتہائی مثبت اور کھلی سوچ رکھتا ہے۔ اس بیان کے سامنے آتے ہی بھارتی ذرائع ابلاغ پر شدید تشویش اور گہرا تجسس دیکھا جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا میں ہمایوں کبیر کے اس مؤقف کو اس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش دراصل پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ معاہدے اور ممکنہ چار ملکی دفاعی بلاک کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان پچھلے کچھ عرصے سے جاری شدید سفارتی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں ڈھاکا کے اس نئے مثبت رویے کو ایک انتہائی اہم، غیر متوقع اور سٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس چار ملکی بلاک میں بنگلہ دیش کی شمولیت سے خطے میں دفاعی و اقتصادی توازن تبدیل ہو جائے گا جس سے بھارت پر زبردست سفارتی دباؤ بڑھے گا۔

مشیرِ خارجہ امور ہمایوں کبیر نے مزید تفصیلا ت دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کا دورۂ ریاض گرمیوں کا موسم ختم ہونے کے بعد حتمی طور پر طے پائے گا۔ اس اعلٰی سطحی دورے کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مکہ فریم ورک میں شمولیت کی دستاویزات کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ بنگلہ دیش کی اس نئی خارجہ پالیسی نے خطے میں ایک بالکل نئی سفارتی صف بندی کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔