پاکستان میں 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے متاثر ہونے کا اندازہ؛ دوا کی جلد دستیابی کے لیے ڈریپ کو ترجیحی بنیادوں پر ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے کی ہدایت

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے مریضوں کے لیے جدید ترین اور سستے علاج کی مقامی سطح پر فراہمی کے لیے مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر منعقدہ فارماسیوٹیکل کانفرنس کے تسلسل میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے چین کی نامور بائیوٹیک کمپنی “ہواہوائی ہیلتھ” کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ وزارتِ قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی سیکرٹری ہیلتھ اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ ڈاکٹر عبید ممتاز، ملک کے نامور ہیماٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سعید ایس حامد اور کلینیکل ریسرچ کے ممتاز ماہر سید منور علی بھی موجود تھے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کے غریب مریضوں کے علاج معالجے کے لیے جاری پیش رفت اور دونوں ممالک کی کمپنیوں کے مابین اشتراک کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ روز ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج سے متعلق دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تجارتی معاہدے پر کامیابی سے دستخط کیے گئے ہیں، جو پاکستان میں جدید اور مقامی سطح پر لائف سیونگ ادویات کی دستیابی کی جانب ایک اہم تاریخی سنگ میل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان یہ مقتدر عسکری و معاشی تعاون ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے لاچار مریضوں کو نئی زندگی دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 10 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے موذی مرض سے متاثر ہو سکتے ہیں، جنہیں اس اقدام کے ذریعے اب انتہائی جدید، بین الاقوامی معیار کے اور مؤثر علاج تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ اس تزویراتی تعاون سے جہاں پاکستانیوں کی جانیں بچیں گی، وہاں ملک کے دواسازی (فارماسیوٹیکل) کے شعبے میں جدید مینوفیکچرنگ کی استعداد کار اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔ مصطفیٰ کمال نے مریضوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضے ہنگامی و ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنا رہی ہے تاکہ یہ انقلابی دوا جلد از جلد عام پاکستانی مریضوں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہو سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کی اس دوا کی فیز ٹو کلینیکل اسٹڈی کے دوران انسانی صحت پر اس کی حفاظت اور بیماری کے خلاف مؤثریت کے انتہائی شاندار اور مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں۔