بلوچستان زلزلہ: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا موسیٰ خیل میں جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار، این ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت کو فوری ریلیف اور ریسکیو آپریشن تیز کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 27,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور گردونواح میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر گہرے دکھ، افسوس اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور حکومتِ بلوچستان کو متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں ہنگامی بنیادوں پر تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور زلزلہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے زلزلے کے مرکز اور شدید متاثرہ علاقے “کنگری” میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو فی الفور بہترین اور مقتدر طبی سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی ہے اور زخمیوں کی جلد و کامل صحتیابی کے لیے دعا بھی کی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو پابند کیا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد یا زخمیوں کو اسپتالوں تک منتقل کرنے کے عمل میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے زلزلے کے باعث گرنے والے یا جزوی طور پر متاثرہ گھروں کے مکینوں کو فوری طور پر عارضی پناہ گاہیں، راشن اور خیمے فراہم کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔

اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے این ڈی ایم اے کے حکام کو واضح گائیڈ لائنز دیں کہ وہ موسیٰ خیل کے دور افتادہ علاقوں میں جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن میں بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی بھرپور تزویراتی معاونت کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کا مشترکہ اور مؤثر ردِعمل ہی متاثرین کی تکالیف کو جلد از جلد کم کر سکتا ہے، لہٰذا ریلیف کے سامان کی ترسیل میں کسی قسم کی تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

حق و صداقت کا ابدی معیار: واقعہ کربلا اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے قربانی کا نام ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) کے مقتدر اور فکر انگیز موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکہ کربلا دراصل اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم و آفاقی مقصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا نام ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی یہ عظیم قربانی نوعِ انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتی ہے، جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف، صبر و برداشت اور ذمہ داری کے اوصاف کو ہر ممکن فروغ دیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام میں تاریخی و اخلاقی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصولوں اور مقتدر اقدار کی پاسداری ہی کسی بھی باوقار اور مہذب معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بے مثل طرزِ عمل سے کائنات کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے میدانِ جنگ میں کٹ جانا درحقیقت ظلم و جبر، ناانصافی اور باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اختلافات، نفرت اور انتشار کے فرسودہ رویوں کے بجائے باہمی احترام، بین المسالک رواداری اور یکجہتی جیسی مقتدر اقدار کی مضبوطی ہی ہمارا اولین قومی پیشِ نظر ہونا چاہیے۔

اپنے مقتدر خطاب میں وزیرِ اعظم نے ملک بھر کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، ذرائع ابلاغ (میڈیا) اور نوجوان نسل سے پرزور اپیل کی کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی اور تزویراتی پیغام کو علمی بنیادوں پر اجاگر کریں، معاشرے میں بین المسالک احترام و ہم آہنگی کی فضاء کو برقرار رکھیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز بیانیے کا سدِباب کریں۔ انہوں نے قوم کو عہد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے آج یہ پختہ عزم کریں کہ شہدائے کربلا کی مقتدر قربانی کی روشنی میں حق و انصاف کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کریں گے، معاشرے کے کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیرِ اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔

منشیات کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد: پاکستان منشیات، ان کی غیر قانونی ترسیل اور نوجوانوں تک رسائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر پوری قوم بالخصوص والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری نسلِ نو کو اس کثیر الجہتی لعنت سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر آ کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان منشیات کی نئی اقسام، اس کی بین الاقوامی ترسیل اور نوجوانوں تک اس کی رسائی کے تمام منسلک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر پرعزم اور ثابت قدم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر منشیات کے سدِباب کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کا عالمی موضوع ’’دیرینہ مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک مستقبل کے لیے اختراعی اقدامات‘‘ ہے، جو عالمی سطح پر اس مسئلے کی بدلتی اور سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی استعداد میں اضافے، صوبائی و وفاقی اداروں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کو وسعت دے رہی ہے، کیونکہ ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیرِ اعظم نے اپنے مقتدر خطاب میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کو حکومت کی اولین قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس طلب میں کمی، آگاہی مہم اور متاثرین کے علاج و بحالی کے لیے جامع و متوازن حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات خوروں اور اسمگلروں کے خلاف برسرِ پیکار اینٹی نارکوٹکس فورس کے ان بہادر شہداء کو خصوصی اور مقتدر خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی سماجی برائیوں کے خلاف مؤثر روک تھام اور ایک صحت مند و منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

تعزیتی پیغام: وزیرِ اعظم شہباز شریف کا سابق مقتدر فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بھائی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مقتدر اور عالمی شہرت یافتہ متبادل فاسٹ باؤلر شعیب اختر کے بھائی شاہد اختر کے اچانک انتقال پر انتہائی گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر تعزیتی بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف سابق کرکٹر شعیب اختر اور ان کے تمام اہل خانہ سے اس کٹھن گھڑی میں دلی تعزیت اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں سوگوار خاندان کے ساتھ غم بانٹتے ہوئے مقتدر دعا کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم شاہد اختر کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام اور جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے، اور ان کے جانے سے پیچھے رہ جانے والے تمام لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی اور گہرا صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل اور ہمت عطا فرمائے۔

عوامی ریلیف کی مقتدر فراہمی: بجٹ میں قوم سے کیے وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں گفتگو

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عام عوام اور ملکی کاروباری برادری کے لیے تزویراتی ریلیف کو خاص طور پر مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ تشکیل دینے پر حکومتی بالخصوص وزارتِ خزانہ کی پوری ٹیم کی زبردست پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں قوم سے کیے ہوئے مقتدر وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عام عوام کو ہر ممکن اور بھرپور ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، وزیرِ اعظم نے حکومت کی اعلیٰ سطح کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور پوری حکومتی ٹیم کی شبانہ روز کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں محروم طبقات اور معیشت کے پہیے کو متحرک کرنے والے شعبوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اور معاشی ٹیم کی اس حوالے سے تمام تر کوششیں بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے معاشی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی کہ ملک کے حالیہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں کے تمام ثمرات براہِ راست ملک کے ہر شہری اور نچلے طبقے تک شفاف طریقے سے پہنچائے جائیں گے۔ دوسری جانب، حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی جانب سے ملنے والی اس مقتدر ستائش اور حوصلہ افزائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کے محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ایک انتہائی کامیاب کوشش کی ہے۔

معاشی ٹیم کے مقتدر ارکان نے بجٹ کی تیاری کے کٹھن عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بجٹ تجاویز کے حوالے سے ذاتی ملاقاتوں، عوامی ریلیف کے لیے واضح ہدایات اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے عوام کے ریلیف کے اقدامات منوانے کے حوالے سے خود دلچسپی لے کر تمام پیچیدہ معاملات سلجھانے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی براہِ راست ہدایت کے تحت بجٹ کی تیاری کے لیے متعدد طویل اجلاس منعقد کیے گئے اور تمام طبقاتِ فکر سے تفصیلی رہنمائی لی گئی تاکہ ایک بہترین اور متوازن بجٹ پیش کر کے غریب طبقات کا تحفظ کیا جا سکے۔ معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی مقتدر قیادت میں پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور مالیاتی استحکام کے لیے اپنے اقدامات اور عزم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا پختہ اعادہ کیا۔

پاک سعودی برادرانہ تعلقات: پاکستان کی امن کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے، سعودی عرب سمیت برادر ممالک کی حمایت نہایت اہم رہی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تبوک کے گورنر سے ٹیلیفون پر گفتگو

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی تمام تر امن کوششوں کا واحد اور بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا فروغ ہے، جس میں سعودی عرب سمیت تمام مقتدر برادر ممالک کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت ہمیشہ نہایت اہم اور کلیدی رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے تزویراتی صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے بدھ کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ٹیلیفونک گفتگو نہایت گرمجوشی، مقتدر خیرسگالی اور روایتی برادرانہ ماحول میں ہوئی۔

اس مقتدر رابطے کے دوران گورنر تبوک نے عالمی سفارتی منظرنامے پر پاکستان کی تاریخی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تاریخی حصول میں پاکستان کی غیر معمولی، انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی۔ وزیرِ اعظم نے تہنیتی کلمات پر گورنر تبوک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں ثالثی اور امن کا خواہاں رہا ہے، اور اس عظیم مقصد کی تکمیل برادر ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی اور سٹریٹجک برادرانہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان اور اس کے عوام سے گہری محبت، مقتدر لگن اور مستقل خیرسگالی کے جذبات پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔ گفتگو کے اختتام پر، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے کے لیے گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کو جلد سے جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی پرخلوص دعوت بھی دی۔