

منصور احمد, August 16,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے خلاف حکومت، تعلیمی اداروں اور عام عوام کی جانب سے فوری اور اجتماعی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں پلاسٹک کے مضمرات اور آلودگی کے حوالے سے خصوصی آگاہی سیمینارز منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو اس کے ماحولیاتی نقصان سے بروقت آراستہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک مخالف قانون پہلے ہی باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جا چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگز ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے سب سے بڑے عوامل میں سے ہیں، جن میں موجود مضر صحت کیمیکلز انسانی صحت اور قدرتی ماحول کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب پلاسٹک کے فضلے کو ٹھکانے لگانے اور استعمال کے بعد دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے نئی اور جدید اختراعی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے پیش کردہ جدید خیالات اور عملی حل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دیگر تعلیمی اداروں کو بھی ان کی پیروی کرنے کی ہدایت کی۔