

محمود احمد, August 30,2026
کاٹھمنڈو/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء
نیپال اور تبت کے سرحد پار علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر سیلاب اور قدرتی آفات کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے اب نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلی لہر کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال آئندہ دنوں میں کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو فوری طور پر مشترکہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے معروف بین الاقوامی ماہر جیف ڈا کوستا نے عالمی ابلاغی ادارے کو بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے مٹی، پتھروں اور گلیشیائی ملبے نے کئی مقامات پر قدرتی دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے۔ راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے عارضی ذخائر اور نئی جھیلیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے کی صورت میں آنے والا دوسرا سیلاب اگرچہ حجم میں پہلے جتنا بڑا نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیچے بستیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
جیف ڈا کوستا نے سائنسی نقطہ نظر سے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور نگرانی کرنا انتہائی اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے کہ علاقے میں بننے والی ان نئی جھیلوں اور پانی کو روکنے والی عارضی رکاوٹوں میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پانی کا دباؤ کس مقام پر سب سے زیادہ ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چین اور نیپال دونوں ممالک کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی سے متعلق حاصل ہونے والی تمام تر سیٹلائٹ اور زمینی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بلا تاخیر شیئر کریں۔
ماہرِ سیلاب ڈا کوستا کا کہنا تھا کہ ہمالیائی بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی سیکیورٹی یا سیلابی صورتحال سرحد کے دوسری جانب نشیب میں رہنے والے لوگوں کو چند منٹوں میں انتہائی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے جس رفتار سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے، معلومات اور الرٹس بھی اسی رفتار سے دونوں ملکوں کے درمیان منتقل ہونے چاہئیں تاکہ مقامی انتظامیہ اور آبادی زمینی سطح پر بروقت، درست اور عملی فیصلے کر کے انسانی جانوں کا تحفظ کر سکے۔
اپنی سائنسی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈا کوستا نے اشارہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم اور کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے پورے سلسلے میں گلیشیئرز، ہزاروں سال سے جمی ہوئی برفانی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ مزید سائنسی تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بغیر اس آفت کو سو فیصد اور براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔








