

محمود احمد june 10,2026
اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء
اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی ہولناک کشیدگی اور جنگی محاذ کے خطرناک پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی مذاکرات ہی واحد اور مؤثر ترین راستہ ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے عثمان جدون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عسکری ذرائع اور جنگی ہتھیار کبھی بھی دنیا میں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ اس مہم جوئی سے صرف اور صرف معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ شہری آبادی کے مصائب و مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فوری قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کا پورا موقع مل سکے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے اور انتہائی تعمیری انداز میں اس امن عمل کا حصہ بنیں گے کیونکہ پاکستان شروع سے ہی یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی غیر جانبدارانہ حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر سختی سے قائم رہے گا، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت کے لیے یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی مکمل پاسداری کریں اور ایک ایسا عالمی سطح پر قابلِ قبول حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتا ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں اور جوابی عسکری کارروائیوں کے تسلسل نے تنازع زدہ علاقوں میں مزید تباہی اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے جبکہ بے گناہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ اس جنگ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف ہونے والے حالیہ حملوں اور اس کی سلامتی کو لاحق سنگین ایٹمی خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے، سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے گرد موجود جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہونے والی مفاہمت پر مکمل اور ذمہ دارانہ عمل درآمد جاری رکھیں گے، پاکستان نے تمام فریقین پر دوبارہ زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے تمام اقدامات سے سختی سے گریز کریں جو شہری آبادی اور اہم ترین جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ عالمی برادری بارہا انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر واضح کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے اور عالمی امن کے لیے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دیا جانا چاہیے۔