شادی کی تقریب پر امریکی میزائل گرنے سے معصوم بچے سمیت 4 افراد ہلاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے حملے کو ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ قرار دے دیا

Spread the love

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے معصوم بچے سمیت چار افراد کی دردناک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سٹریٹجک جنگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ المناک واقعہ جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں شادی کی پرمسرت تقریب جاری تھی۔ اس دوران پاس کے علاقے میں ہونے والے امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں میزائل کے وزنی ٹکڑے شادی والے گھر پر جا گرے، جس کے نتیجے میں بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس حملے کے بعد کی دل دہلا دینے والی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں تباہ شدہ گھر اور خوشیوں کے ماتم میں تبدیل ہونے کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ پیغام میں امریکی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ جنگ کی بھیانک حقیقت گزشتہ رات پوری دنیا کے سامنے بالکل آشکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ویڈیو امریکی فوج کے ہاتھوں کیے جانے والے ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ دکھاتی ہے۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر میزائل کے ٹکڑے گرنے اور شہریوں کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی متعدد میڈیا اطلاعات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، تاہم امریکی فوج نے واضح موقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف کے خلاف ہیں اور اس نے شہریوں یا غیر نظامی آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا ہے۔