یو ایس اوپن ٹینس: ٹاپ سیڈ ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کی جوڑی مینز ڈبلز کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, September 07,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

فن لینڈ کے نامور ٹینس سٹار ہیری ہیلیواارا اور انگلینڈ کے ہنری پیٹن پر مشتمل ٹاپ سیڈ جوڑی نے سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے مینز ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل (ٹاپ 16 مرحلے) میں باآسانی جگہ بنا لی ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں جاری عالمی ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ کے اہم میچ میں فن لینڈ اور انگلینڈ کی جوڑی نے شاندار فنکارانہ کھیل اور اعلیٰ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹلی کے میتھیو آرنلڈی اور جرمنی کے جان لینارڈ سٹرف کی جوڑی کو سیدھے سیٹوں میں 5-7 اور 2-6 سے مات دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

ٹورنامنٹ کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق ہیری ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کو اس میگا ایونٹ کے مینز ڈبلز زمرے میں پہلی سیڈ حاصل ہے۔ رواں سال دونوں کھلاڑی انتہائی شاندار فارم میں ہیں اور حال ہی میں ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد اب مسلسل دوسری گرینڈ سلام ٹرافی اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

نیویارک کے ہارڈ کورٹس پر کھیلے جا رہے اس عالمی میگا ایونٹ میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہیلیواارا اور پیٹن کی پیش قدمی سے ایونٹ میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کا بڑا فیصلہ: خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی (ڈی این اے) معائنہ لازمی قرار

محمود احمد, JULY 21,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن نے ڈبلیو ٹی اے ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والی تمام خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی معائنے (ڈی این اے ٹیسٹنگ) کو باقاعدہ طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔

‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق، 21 جولائی 2026ء سے فوری طور پر نافذ العمل ہونے والی اس نئی پالیسی کے تحت تمام خاتون کھلاڑیوں کے چیک سواب، خون یا لعاب (سلیوا) کے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔ اس ٹیسٹ کا بنیادی مقصد وائی کروموسوم پر موجود ‘ایس آر وائی’ جینیاتی مادے کی موجودگی کا پتہ لگانا ہے، جو جسمانی طور پر مردانہ خصوصیات اور نشوونما کا باعث بنتا ہے۔

ڈبلیو ٹی اے کی واضح کردہ ہدایات کے مطابق، کھلاڑیوں کا یہ جینیاتی ٹیسٹ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں صرف ایک بار (لائف ٹائم) کیا جائے گا۔ ٹیسٹ کا رپورٹڈ نتیجہ منفی آنے کی صورت میں ہی کھلاڑیوں کو ایونٹس میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مثبت نتیجہ سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ کھلاڑی کا تفصیلی طبی جائزہ لیا جائے گا۔ اس پالیسی کا احترام یقینی بنانے کے لیے تمام کھلاڑیوں سے ایک رسمی عہد نامے پر دستخط بھی کروائے جائیں گے اور ٹیسٹ کروانے سے انکار کی صورت میں سخت ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ سال 2024ء میں ڈبلیو ٹی اے کی سابقہ پالیسی کے تحت خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) خواتین کو اس شرط پر کھیلنے کی اجازت تھی کہ وہ اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو مسلسل دو سال تک مقررہ حد سے کم رکھیں۔ تاہم، ڈبلیو ٹی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس نئی جینیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ ٹینس میں تمام خاتون کھلاڑیوں کو مساوی مواقع، شفافیت اور منصفانہ کھیل کا یکساں ماحول فراہم کرنا ہے۔