ایران اور امریکہ کے مابین مصالحتی کوششوں سے دستبرداری کا تاثر سراسر غلط؛ ترجمان دفتر خارجہ نے سفارتی رابطے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

Spread the love

منصور احمد, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن کوششوں سے پیچھے ہٹنے یا دستبردار ہونے کے تمام تر تاثرات اور افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا متحرک اور اصولی کردار مستقل بنیادوں پر ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تناؤ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ پائیدار امن اور سنجیدہ مذاکرات ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایک مؤثر فریم ورک کے طور پر موجود ہے اور فریقین جب بھی مذاکرات کی راہ پر آئیں گے، اسی دستاویزی فریم ورک کی بنیاد پر امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام تنازعات کے پرامن سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کے عالمی بحران، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معمول کے مطابق بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے تمام اہم ممالک سے قریبی رابطے میں ہے، اور حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی امیرِ قطر اور ایرانی صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی سفارتی تحمل اور امن کی فوری بحالی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ہونے والے تجارتی مذاکرات میں اہم اور مثبت پیش رفت کی بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے اور باہمی معاشی و تجارتی امور پر پائے جانے والے اختلافی نکات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کے جلد ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام سے مکمل گریز کریں جس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ اس خطے میں امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے اس سنگین تنازع کا پرامن حل تلاش کر لیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، اور پاکستان اس حوالے سے اہم عالمی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے عزم کو دہرایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1540 پر اپنی تفصیلی عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) پر سخت کنٹرول سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی سے پوری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اوسطاً ہر 3 سال بعد باقاعدگی سے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر طاہر اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے پر دائر کی گئی حالیہ چارج شیٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کا واحد مقصد کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کرنا ہے، اور یہ چارج شیٹ واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے محض اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور بلوچستان میں بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں پر بھارتی میڈیا کا ہنسنا، قہقہے لگانا اور تالیاں بجانا ان کے انتہا پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین سفارتی تعلقات میں اب تک کوئی تعطل دور (آئس بریک) نہیں ہوا ہے، اور جب تک کابل حکومت پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تب تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تنظیم کے دیگر تمام رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کرتا ہے اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں پر من و عن عملدرآمد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔