سعودی عرب کی پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی پاکستان کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ کا سعودی خودمختاری کی کامل حمایت کا اعادہ

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے تزویراتی و شہری بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کی سخت ترین الفاظ میں پرزور مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانا خطے کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

ہفتے کے روز ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم سرکاری بیان کے مطابق، پاکستان نے سعودی عرب کے علاقوں ریاض اور مدینہ کے درمیان واقع تزویراتی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ہونے والے قابلِ مذمت ڈرون حملوں پر گہری تشویش اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا جبکہ عام شہری بھی زخمی ہوئے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شہری بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی تنصیبات کو بزدلانہ انداز میں نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ یہ عمل برادر ملک سعودی عرب کی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور علاقائی سالمیت پر صریح حملے کے مترادف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس نوعیت کے یکطرفہ اور جارحانہ حملے پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن، امن و امان کی صورتحال اور علاقائی توازن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے اعادہ کیا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل اور تاریخی حمایت کو دہراتا ہے۔ پاکستان اس مشکل گھڑی میں سعودی قیادت، حکومت اور اپنے برادر سعودی عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ماضی کی طرح خطے میں پائیدار امن، کشیدگی کے خاتمے اور پُرامن بقائے باہمی کے حصول کے لیے تمام مخلصانہ سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس: پاکستان میں 15 اور 16 نومبر کو ہونے والے ای سی او کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ

کاشف عباسی , September 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رواں سال 15 اور 16 نومبر 2026ء کو منعقد ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے تاریخی کونسل آف منسٹرز اجلاس کی تیاریوں کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا۔

جمعہ کے روز ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو ای سی او کونسل آف منسٹرز کے متوقع اجلاس کی اب تک کی تیاریوں، مجوزہ ورکنگ پروگرام، اجلاس کے ایجنڈے، رکن ممالک کے وزرائے خارجہ و نمائندگان کی ممکنہ شرکت، لاجسٹکس اور دیگر تمام سفارتی و انتظامی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ فراہم کی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آئندہ کونسل آف منسٹرز اجلاس کی انتظامی و سفارتی پیش رفت کا باریک بینی سے احاطہ کیا اور تمام اہم امور پر متعلقہ حکام کو فوری نوعیت کی ضروری ہدایات جاری کیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی اہمیت کو اجاگر کیا اور خطے میں آزادانہ تجارت، مواصلاتی روابط، توانائی کے تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ میں اس تنظیم کے متحرک کردار کو پاکستان کی جانب سے دی جانے والی ترجیحی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام کو واضح طور پر ہدایت کی کہ پاکستان کی میزبان میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کو ہر لحاظ سے نتیجہ خیز، بااثر اور کامیاب بنانے کے لیے تمام تر سیکیورٹی و لاجسٹک انتظامات وقت سے پہلے اور جامع انداز میں مکمل کیے جائیں۔

دفتر خارجہ میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے تمام متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز اور اعلیٰ سفارتی افسران نے شرکت کی اور نائب وزیراعظم کو تیاریوں کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا۔

مکہ دفاعی معاہدے میں فی الحال کسی نئے ملک کو شامل کرنے پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی: ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر

منصور احمد,September 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ کے باضابطہ ترجمان سجاد حیدر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کے تحت باقاعدگی سے باہمی مشاورت اور رابطے میں ہیں، تاہم فی الوقت اس عسکری و دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مختلف اعلیٰ انتظامی و عسکری سطحوں پر باقاعدگی سے ملاقاتیں اور تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں اور تینوں برادر ممالک مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر نے دفاعی اتحاد کے مستقبل اور ترجیحات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تینوں ممالک کی بنیادی ترجیح مکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے موجودہ تعاونی فریم ورک اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال، منظم اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اس اہم دفاعی اتحاد میں شمولیت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے جو اس معاہدے کے بنیادی اصولوں، سیکورٹی نقطہ نظر اور علاقائی ضرورتوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوں۔

سجاد حیدر کے مطابق دفاعی اتحاد میں نئے ممالک کی ممکنہ شمولیت سے متعلق تمام تر اہم فیصلے مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی باہمی مشاورت اور متفقہ رائے سے ہی کیے جائیں گے۔

ترجمان نے جاری گفتگو کے دوران افواہوں کا خاتمہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال اس حساس معاملے پر کوئی باضابطہ گفتگو یا بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس جاری ابتدائی مرحلے پر مکہ دفاعی معاہدے میں کسی بھی نئے ملک کی شمولیت کا سوال بالکل قبل از وقت اور غیر متعلقہ ہے۔

واضح رہے کہ سہ فریقی تاریخی مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین رواں برس 7 اگست 2026ء کو سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا بنيادی مقصد ان تینوں اہم اسلامی ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سیکیورٹی، عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دفاعی تعاون کو ایک نئے جدید اور ناقابلِ تسخیر موڑ پر لانا ہے۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندی کا تاریخی اقدام: پاکستان کا خیرمقدم اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کا عزم

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات اور اشیائے صرف پر مکمل پابندی عائد کرنے کے جرات مندانہ فیصلے کا پرجوش اور غیر مشروط خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان وزارتِ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کا مسلسل اور متنازع پھیلاؤ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سراسر کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس قسم کے غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی شدید ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد باوقار ممالک کے ان اعلانات کا بھی پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جن میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بالکل اسی نوعیت کے سخت تجارتی و معاشی اقدامات پر غور کرنے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی برادری کے یہ اجتماعی اور مربوط اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام غاصبانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سرسری طور پر مسترد کرنے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت ترین پیغام ثابت ہوں گے۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 8 ستمبر کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا پیدا ہونے والی تمام اشیا کی برطانیہ درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کی گئی ایک مشترکہ سفارتی و اقتصادی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ بستیوں کی توسیع، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر میں براہِ راست مدد فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ برطانوی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اقدامات براہِ راست اسرائیل کے ساتھ مجموعی دوطرفہ تجارت کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کا ہدف صرف غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے جڑی مالی و تجارتی سرگرمیاں ہیں۔

بیان کے اختتام پر پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے ناقابلِ تسخیر حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا بابرکت دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندیوں کا اقدام: پاکستان کا برطانیہ اور دیگر ممالک کے فیصلے کا پرجوش خیرمقدم

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی یا وہاں سے صادر کی جانے والی تمام مصنوعات کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے تاریخی اور جرات مندانہ اعلان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل اور متنازع توسیع بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے ایسے تمام تر غیر قانونی اور غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے حصول کے لیے جاری عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، بلکہ پوری مشرقِ وسطیٰ کے دائم امن، توازن اور استحکام کو بھی سخت خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ پاکستان برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد اہم ممالک کے اس اہم اعلان کی بھی مکمل تائید اور خیرمقدم کرتا ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ اور اسی نوعیت کے سخت تجارتی و سفارتی قدغنوں پر غور کرنے اور عملی اقدامات کی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ترجمان نے امید ظاہر کی کہ ان بین الاقوامی اقدامات، تجارتی پابندیوں اور مشترکہ فیصلوں سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام تر غاصبانہ و غیر قانونی سرگرمیوں کو عالمی برادری کی جانب سے یکسر مسترد کیے جانے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت پیغام پہنچے گا۔

واضح رہے کہ برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے خلاف تاریخی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی ‘نسل کشی’ اور تشدد پر مجرمانہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

گزشتہ روز برطانوی پارلیمان کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل فلسطین تنازع کے حوالے سے برطانیہ کے ‘ایک نئے اور عملی طرزِ عمل کی شروعات’ ہے، جو صرف زبانی زبانی ناانصافی کی نشاندہی ہی نہیں کرتا بلکہ بین الاقوامی سطح پر عملی پیش رفت بھی کرتا ہے۔ برطانوی پابندیوں کے تحت بستیوں کی مصنوعات پر کامل پابندی عائد رہے گی جبکہ بستیوں کی توسیع میں مددگار کمپنیوں اور افراد پر بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ جدید پابندیاں فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر نافذ کی گئی ہیں، جنہوں نے ایک مشترکہ بین الاقوامی اعلامیے میں کہا ہے کہ یہ قدم دو ریاستی حل کے تحفظ کے لیے طرزِ عمل میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تمام تر بستیاں مکمل طور پر غیر قانونی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان علاقوں میں فلسطینیوں پر تشدد کے بزدلانہ واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار: یمن تنازع کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے خطرہ قرار

منصور احمد,September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں آبادی اور اہم اقتصادی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے متواتر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام یمن تنازع کے پُرامن، سیاسی اور دیرپا حل کے لیے کی جانے والی عالمی و علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے یہ بزدلانہ حملے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدام پوری مشرقِ وسطیٰ کے امن، توازن اور پائیدار استحکام کے لیے گہرا خطرہ بن رہے ہیں۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی سیکورٹی و سلامتی کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر (منشور) اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں سعودی عرب کے اپنے علاقے، عوام اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر ضروری اقدامات اور اس کے جائز عسکری و دفاعی حق کی مکمل طور پر پرزور حمایت کرتا ہے۔

ترجمانِ دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، پائیدار امن کی بحالی اور دیرپا استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں اور اپنا کلیدی کردار مسلسل جاری رکھے گی تاکہ خطہ مزید تصادم اور بے چینی سے محفوظ رہ سکے۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ: غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور مسجدِ اقصی کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سنیر سینیٹر اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان آج ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ قائم ہوا، جس میں دونوں برادر اسلامی ممالک کی قیادت نے بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی ابتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی، خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال اور بین الاقوامی و علاقائی اہمیت کے دیگر تنازعات پر تفصیلی اور گہرا تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں سرفہرست موضوعِ بحث مقبوضہ فلسطین بالخصوص پٹیِ غزہ اور مغربی کنارے کی خونریز صورتِ حال رہی۔ دونوں رہنماؤں نے غاصب اسرائیلی افواج کی جانب سے معصوم فلسطینی عوام، رہائشی علاقوں اور عام بنیادی ڈھانچے پر مسلسل جاری وحشیانہ فوجی کارروائیوں اور کارپٹ بمباری پر انتہائی رنج و غم، غصے اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید آگاہ کیا کہ گفتگو کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم (القدس) میں قبلہِ اول یعنی تاریخی مسجدِ اقصی کی بار بار ہونے والی نجس پامالی، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور مقبوضہ علاقوں میں دن بہ دن مزید تباہ کن شکل اختیار کرتی ہوئی انسانی بنیادوں پر غذائی و طبی صورتِ حال پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی برادری کی جانب سے فوری عملی مداخلت کی تقاضا کرتی ہیں۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کے ترک ہم منصب خاقان فدان نے مظلوم فلسطینیوں کے دیرینہ، قانونی اور ناگزیر حقوق، بشمول آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کی مکمل، واضح اور غیر متزلزل حمایت کا دلی عزم دہرایا۔

ٹیلی فون پر ہونے والی اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے ممکنہ سفارتی اور کثیرالجہتی اقدامات پر بھی پیش رفت کی گئی۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان اور ترکیہ کی اعلیٰ قیادت نے فلسطین کے حوالے سے جاری بحران کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے اور صیہونی مظالم کو روکنے کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ایک فوری اور ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے برادر ملک اردن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس پر مفصل غور کیا۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو کر بین الاقوامی سطح پر اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ایک موثر اور واحد آواز بن کر سامنے آنا چاہیے تاکہ مظلوم فلسطینی شہریوں کی نسل کشی کو فوری روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار اور عادلانہ امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کرغزستان میں ازبک وزیر خارجہ سے اہم ملاقات؛ پاک ازبک سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق

محمود احمد, JULY 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے، جس میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، توانائی، ثقافت اور عوامی روابط کی وسعت پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اعلیٰ سطحی روابط اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ معاشی تعلقات کو حقیقی نتائج میں بدلا جا سکے۔ دونوں وزراء نے رواں سال کے آغاز میں ازبک صدر شوکت مرزایوف کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا، جبکہ ازبک وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے انعقاد کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

پاکستان اور مصر کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق؛ اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے موقع پر مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی جانب سے دیے گئے خصوصی عشائیے میں شرکت کے دوران ان سے اہم ملاقات کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے اور کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے امور شامل تھے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین اور حساس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ علاقائی عدم استحکام عالمی بحری تجارت، توانائی کے تحفظ اور مجموعی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی تشویشناک صورتِ حال پر بھی مفصل گفتگو کی اور شہری آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کو باضابطہ مسترد کرنے کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قاہرہ میں منعقدہ حالیہ مشاورتی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوطرفہ تعلقات اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ؛ اسحاق ڈار کی خلیل الرحمٰن سے اہم ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33 ویں ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے گزشتہ سال نائب وزیرِ اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کی نئی رفتار کو سراہا اور باہمی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دونوں برادر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تجارتی و ثقافتی تعلقات، عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی اور جاری سال کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست پروازوں کے باقاعدہ آغاز کا خصوصی خیرمقدم کیا، جس سے باہمی سفر اور مواصلات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس مثبت پیش رفت کو آئندہ بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی، بین الاقوامی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

ایران اور امریکہ کے مابین مصالحتی کوششوں سے دستبرداری کا تاثر سراسر غلط؛ ترجمان دفتر خارجہ نے سفارتی رابطے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا

منصور احمد, JULY 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 جولائی 2026ء

پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن کوششوں سے پیچھے ہٹنے یا دستبردار ہونے کے تمام تر تاثرات اور افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا متحرک اور اصولی کردار مستقل بنیادوں پر ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تناؤ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ پائیدار امن اور سنجیدہ مذاکرات ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایک مؤثر فریم ورک کے طور پر موجود ہے اور فریقین جب بھی مذاکرات کی راہ پر آئیں گے، اسی دستاویزی فریم ورک کی بنیاد پر امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام تنازعات کے پرامن سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کے عالمی بحران، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معمول کے مطابق بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے تمام اہم ممالک سے قریبی رابطے میں ہے، اور حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی امیرِ قطر اور ایرانی صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی سفارتی تحمل اور امن کی فوری بحالی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ہونے والے تجارتی مذاکرات میں اہم اور مثبت پیش رفت کی بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے اور باہمی معاشی و تجارتی امور پر پائے جانے والے اختلافی نکات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کے جلد ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام سے مکمل گریز کریں جس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ اس خطے میں امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے اس سنگین تنازع کا پرامن حل تلاش کر لیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، اور پاکستان اس حوالے سے اہم عالمی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے عزم کو دہرایا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1540 پر اپنی تفصیلی عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) پر سخت کنٹرول سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی سے پوری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اوسطاً ہر 3 سال بعد باقاعدگی سے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر طاہر اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے پر دائر کی گئی حالیہ چارج شیٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کا واحد مقصد کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کرنا ہے، اور یہ چارج شیٹ واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے محض اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور بلوچستان میں بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں پر بھارتی میڈیا کا ہنسنا، قہقہے لگانا اور تالیاں بجانا ان کے انتہا پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین سفارتی تعلقات میں اب تک کوئی تعطل دور (آئس بریک) نہیں ہوا ہے، اور جب تک کابل حکومت پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تب تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تنظیم کے دیگر تمام رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کرتا ہے اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں پر من و عن عملدرآمد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔