نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے، جس میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی روابط، توانائی، ثقافت اور عوامی روابط کی وسعت پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اعلیٰ سطحی روابط اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ معاشی تعلقات کو حقیقی نتائج میں بدلا جا سکے۔ دونوں وزراء نے رواں سال کے آغاز میں ازبک صدر شوکت مرزایوف کے کامیاب دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کا اعادہ کیا، جبکہ ازبک وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے انعقاد کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے موقع پر مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی جانب سے دیے گئے خصوصی عشائیے میں شرکت کے دوران ان سے اہم ملاقات کی ہے۔
وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے اور کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے امور شامل تھے۔
مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین اور حساس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ علاقائی عدم استحکام عالمی بحری تجارت، توانائی کے تحفظ اور مجموعی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی تشویشناک صورتِ حال پر بھی مفصل گفتگو کی اور شہری آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کو باضابطہ مسترد کرنے کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قاہرہ میں منعقدہ حالیہ مشاورتی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔
منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33 ویں ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے گزشتہ سال نائب وزیرِ اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کی نئی رفتار کو سراہا اور باہمی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دونوں برادر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تجارتی و ثقافتی تعلقات، عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی اور جاری سال کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست پروازوں کے باقاعدہ آغاز کا خصوصی خیرمقدم کیا، جس سے باہمی سفر اور مواصلات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اس مثبت پیش رفت کو آئندہ بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی، بین الاقوامی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن کوششوں سے پیچھے ہٹنے یا دستبردار ہونے کے تمام تر تاثرات اور افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا متحرک اور اصولی کردار مستقل بنیادوں پر ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تناؤ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ پائیدار امن اور سنجیدہ مذاکرات ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایک مؤثر فریم ورک کے طور پر موجود ہے اور فریقین جب بھی مذاکرات کی راہ پر آئیں گے، اسی دستاویزی فریم ورک کی بنیاد پر امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام تنازعات کے پرامن سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کے عالمی بحران، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معمول کے مطابق بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے تمام اہم ممالک سے قریبی رابطے میں ہے، اور حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی امیرِ قطر اور ایرانی صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی سفارتی تحمل اور امن کی فوری بحالی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ہونے والے تجارتی مذاکرات میں اہم اور مثبت پیش رفت کی بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے اور باہمی معاشی و تجارتی امور پر پائے جانے والے اختلافی نکات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کے جلد ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام سے مکمل گریز کریں جس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ اس خطے میں امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے اس سنگین تنازع کا پرامن حل تلاش کر لیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، اور پاکستان اس حوالے سے اہم عالمی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے عزم کو دہرایا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1540 پر اپنی تفصیلی عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) پر سخت کنٹرول سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی سے پوری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اوسطاً ہر 3 سال بعد باقاعدگی سے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر طاہر اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے پر دائر کی گئی حالیہ چارج شیٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کا واحد مقصد کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کرنا ہے، اور یہ چارج شیٹ واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے محض اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور بلوچستان میں بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں پر بھارتی میڈیا کا ہنسنا، قہقہے لگانا اور تالیاں بجانا ان کے انتہا پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین سفارتی تعلقات میں اب تک کوئی تعطل دور (آئس بریک) نہیں ہوا ہے، اور جب تک کابل حکومت پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تب تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تنظیم کے دیگر تمام رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کرتا ہے اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں پر من و عن عملدرآمد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔