

کاشف عباسی ,june 08,2026
اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں شامل کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کرائی گئی، جو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پارٹی وفد کی خود قیادت کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر جیسی اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں، سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان وفاقی بجٹ، نئے ترقیاتی منصوبوں، صوبوں کے جائز مالی حقوق اور ملک بھر میں عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم اجلاس اصل میں ہفتہ کے روز ہونا تھا، تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق گوں نا گوں مصروفیات کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی خصوصی درخواست پر اسے اتوار تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بجٹ مشاورت کا تیسرا اہم دور پیر یعنی آج متوقع ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی لاہور سے اپنی واپسی کے فوراً بعد خود شرکت کریں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری یہ مسلسل مشاورت حکومتی اتحاد کے مستقبل کے استحکام اور بجٹ کی بلا رکاوٹ منظوری کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی حقوق سے متعلق متعدد سخت اور اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھی گئی ہیں۔