وفاق کے ۵۰ سے زائد اداروں میں ملازمین کو بنیادی تنخواہ سے دگنی مراعات دینے کا سنسنی خیز انکشاف، بعض افسران کی تنخواہیں عام محکموں کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا زیادہ ہونے کا انکشاف، وزارتِ خزانہ کے یکساں تنخواہ کے نظام کا اصول بری طرح متاثر

Spread the love

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وفاقی حکومت کے ۵۰ سے زائد اہم ترین اداروں اور خودمختار سٹرٹیجک محکموں میں ملازمین اور اعلیٰ افسران کو ان کی بنیادی تنخواہ سے ۱۰۰ فیصد یعنی دگنی سے بھی زائد اضافی مراعات اور پرکشش الاؤنسز دیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، وفاقی دارالحکومت کے معتبر سرکاری ذرائع اور سینئر صحافی انصار عباسی کی بیوروکریسی کے حوالے سے تیار کردہ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق تنخواہوں کے سرکاری ڈھانچے سے مکمل واقفیت رکھنے والے اعلیٰ مقتدر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان مخصوص اداروں میں مجموعی ماہانہ تنخواہیں عام سرکاری وزارتوں اور محکموں میں کام کرنے والے بالکل اِسی گریڈ کے افسران کے مقابلے میں ۲ سے ۳ گنا تک کہیں زیادہ ہیں جس کے باعث سول سروس کے اندر شدید بے چینی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان غیر معمولی مراعات اور بھاری الاؤنسز حاصل کرنے والے بااثر ترین محکموں میں صدر سیکرٹریٹ، وزیرِ اعظم آفس ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سینیٹ سیکرٹریٹ، سپریم کورٹ سمیت تمام اعلیٰ عدالتیں (حائی کورٹس)، قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی انٹیلی جنس ادارے، ایف بی آر کے ٹیکس حکام اور مختلف خصوصی ٹربیونلز اور وفاقی عدالتوں کے ملازمین شامل ہیں، اعلیٰ سطح کے ان آئینی عہدوں اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کے علاوہ زیادہ مراعات پانے والے دیگر اداروں میں وفاق کے زیرِ انتظام خصوصی تعلیمی، بحالی اور صحت کے بڑے ادارے، بینکنگ ٹربیونلز، وفاقی پولیس تنظیمیں (ایف آئی اے و موٹروے پولیس) اور دیگر خودمختار ریگولیٹری ادارے بھی شامل ہیں جنہیں خزانے سے اربوں روپے اضافی دیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے وفاقی حکومت مختلف سیاسی و انتظامی وجوہات کی بنیاد پر منتخب من پسند اداروں کو خصوصی الاؤنسز کی منظوری دیتی رہی ہے جن میں کارکردگی کی ترغیبات، فیلڈ کی عملی ضروریات اور اعلیٰ ہنر مند عملے کو سرکاری ملازمت میں برقرار رکھنا شامل بتایا جاتا ہے لیکن اس کا بھیانک اور منفی نتیجہ ایک ہی حکومتی ڈھانچے اور ایک ہی ملک کے اندر متعدد متوازی تنخواہی نظاموں کی صورت میں نکلا ہے، صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ایک عام وزارت یا اٹیچڈ محکمہ میں دن رات کام کرنے والا گریڈ ۲۰ کا سینیئر افسر اُس افسر کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم تنخواہ حاصل کرتا ہے جو بالکل اِسی گریڈ ۲۰ میں کسی ایسے بااثر ادارے میں تعینات ہو جہاں کارکردگی یا خصوصی سیکیورٹی الاؤنسز دیے جاتے ہیں، مالیاتی ناقدین اور سینیئر بیوروکریٹس کا کہنا ہے کہ اس امتیازی پالیسی سے ملک کے یکساں بنیادی تنخواہ کے نظام کا بنیادی آئینی اصول بری طرح متاثر ہوا ہے اور وفاق میں ایک ایسی عجیب صورتحال پیدا ہوگئی ہے جسے کئی مقتدر بیوروکریٹس ”حکومت کے اندر ایک الگ حکومت“ قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چند سال قبل وزارتِ خزانہ نے اس بڑے معاشی فرق کو دور کرنے کے لیے صرف وفاقی سیکرٹریٹ کے اُن غریب ملازمین کے لیے ۱۵ سے ۲۵ فیصد تک ”ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس“ (DRA) متعارف کرایا تھا جو معمول کی پرانی تنخواہیں لے رہے تھے، اگرچہ یہ اقدام اس سرکاری اعتراف کا واضح ثبوت تھا کہ مختلف محکموں کے مابین تنخواہوں کا فرق حد سے زیادہ اور غیر منصفانہ حد تک بڑھ چکا ہے لیکن وفاقی سیکرٹریٹ کے باہر کام کرنے والے لاکھوں دیگر سرکاری ملازمین کو اس الاؤنس سے یکسر محروم رکھا گیا، حکومت نے اس وقت وفاقی سیکرٹریٹ کے ان افسران کو اضافی معاوضہ دے کر (جنہیں پہلے کوئی خصوصی مراعات حاصل نہیں تھیں) سول سروس میں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی اور ہڑتالوں کو وقتی طور پر کم کرنے کی کوشش کی تھی تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ وفاق کے بااثر اور طاقتور ادارے اب بھی حکومت اور وزارتِ خزانہ پر دباؤ ڈال کر اپنے ملازمین کے لیے نئے نئے ناموں سے مزید الاؤنسز اور شاہانہ مراعات حاصل کرتے جا رہے ہیں جس سے غریب ملک کے خزانے پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔