

منصور احمد ,May 31,2026
گوادر (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)
پاکستان کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کی حامل گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ نے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ گوادر پورٹ پر حالیہ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 53 ہزار 277 میٹرک ٹن سے زائد مختلف نوعیت کے کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ مکمل کر لی گئی ہے، جو بندرگاہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں اور جدید آپریشنل صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
تفصیلات کے مطابق، دوست ملک چین سے آنے والے ایک بڑے تجارتی بحری جہاز “ایم وی بی جیا شان” کو انتہائی کامیابی اور مہارت کے ساتھ گوادر پورٹ پر لنگر انداز کیا گیا۔ اس جہاز پر موجود تقریباً 20 ہزار 669 میٹرک ٹن وزنی اسٹیل بلٹس کو جدید ترین کرینوں اور لائفٹ سسٹم کے ذریعے محفوظ اور مؤثر انداز میں اتارا گیا۔ بندرگاہی حکام اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے مطابق، تمام آپریشنز کو بین الاقوامی بحری قوانین اور مقررہ معیارات کے مطابق وقت پر مکمل کیا گیا۔
اسی دوران، گوادر پورٹ کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیتوں کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب سلطنت عمان کی مشہور بندرگاہ “صحار” جانے والے ایک اور بحری جہاز کو ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے لیے گوادر منتقل کیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن سے گوادر پورٹ کی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے خطے میں ابھرتی ہوئی تجارتی اور لاجسٹک حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔
بندرگاہ کے تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق، 12 اعشاریہ 8 میٹر ڈرافٹ کے حامل اتنے بڑے بحری جہاز کی محفوظ برتھنگ اس بات کا عملی مظہر ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ گوادر پورٹ اب نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور پورے خطے کے لیے ایک اہم ترین اور سستا تجارتی مرکز بن کر ابھر رہی ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت گوادر پورٹ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہ تجارتی سرگرمیاں اسی وژن کو سچ ثابت کر رہی ہیں۔
بندرگاہی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کی اسمارٹ پورٹ بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹم میں مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی اور عالمی تجارتی ضروریات کو تیز ترین وقت میں پورا کیا جا سکے۔ کارگو ہینڈلنگ میں یہ حالیہ ریکارڈ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گوادر آنے والے دنوں میں عالمی بحری تجارت، ٹرانزٹ روٹس اور علاقائی اقتصادی روابط کا سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔