امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

اسلام آباد میں نئی توانائی پالیسی کا نفاذ؛ مارکیٹس، شاپنگ مالز اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ

منصور احمد june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں توانائی کے مؤثر استعمال اور وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار کو محدود کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جون 2026ء سے شہر بھر کی تمام چھوٹی بڑی دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے لازمی بند کرنے ہوں گے۔

اہم اور ہنگامی خدمات کے لیے استثنیٰ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، عوام کی سہولت کے لیے بعض انتہائی اہم اور ضروری خدمات کو اس وقت کی پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ (آزاد) قرار دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں قائم فارمیسیاں (میڈیکل اسٹورز)، ہسپتال، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، دودھ اور ڈیری کی دکانیں، جمنازیم، کھیلوں کی دیگر سہولیات، انٹرنیشنل کال سینٹرز اور معلوماتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں معمول کے مطابق اپنے اوقات کار جاری رکھ سکیں گی اور ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔

ریسٹورنٹس، کریانہ اور سبزی فروشوں کے لیے رعایت ضلعی انتظامیہ نے ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس، تندوروں، کریانہ و جنرل اسٹورز، گوشت فروشوں، پھل اور سبزی کی دکانوں کو خصوصی رعایت دیتے ہوئے انہیں رات 10 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ، شہریوں کی سہولت کے لیے ہوٹلوں سے کھانا ساتھ لے جانے (ٹیک اوے) اور گھروں تک ترسیل (ہوم ڈیلیوری) کی خدمات رات 10 بجے کے بعد بھی معمول کے مطابق جاری رکھی جا سکیں گی۔

شادی ہالز اور نجی تقریبات پر پابندی سرکاری نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ تمام شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریباتی مقامات کو بھی رات 10 بجے ہر حال میں بند کیا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق، یہ پابندی نہ صرف کمرشل ہالز بلکہ نجی مقامات یا گھروں کے باہر منعقد ہونے والی دیگر سماجی تقریبات پر بھی یکساں لاگو ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکومتی اقدام کا مقصد اور نفاذ کی تاریخ اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق، ان نئے کاروباری اوقات کار کا بنیادی مقصد ملک میں توانائی کے غیر ضروری استعمال اور فضول خرچی میں واضح کمی لانا اور حکومتی سطح پر جاری کفایت شعاری کے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔ یہ احکامات یکم جون 2026ء سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوں گے اور ضلعی انتظامیہ کے آئندہ پیداواری احکامات تک سختی سے برقرار رہیں گے۔

تمام دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور شاپنگ مالز: رات 8 بجے تک
ریسٹورنٹس، تندور، کریانہ، گوشت اور پھل و سبزی فروش: رات 10 بجے تک
شادی ہالز، مارکیز اور نجی تقریباتی مقامات: رات 10 بجے تک
فارمیسیاں، ہسپتال، پیٹرول پمپ، کال سینٹرز اور آئی ٹی کمپنیاں: پابندی سے مکمل مستثنیٰ
حکام کا کہنا ہے کہ ان سخت لیکن ضروری اقدامات کی بدولت وفاقی دارالحکومت میں توانائی کے بہتر استعمال اور قومی وسائل کے تحفظ میں بڑی مدد ملے گی۔

او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، تین برس میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء:

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ تین برسوں (2023ء سے اب تک) کے دوران ملک بھر کے تین بڑے صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات پوری کرنے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اربوں روپے کی روزانہ بچت اور پیداواری صلاحیت سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 17 ہزار 123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قومی خزانے کو روزانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے تک کی خطیر بچت ممکن ہو سکے گی۔

تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ دستاویزات کے مطابق کمپنی کی سالانہ کارکردگی درج ذیل رہی ہے:مالی سال 2023-24: اس عرصے کے دوران ملک میں پانچ نئے ذخائر دریافت کیے گئے جن سے یومیہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی صلاحیت سامنے آئی۔مالی سال 2024-25: اگلے مالی سال میں مزید پانچ بڑی دریافتیں ہوئیں، جس سے ملکی پیداوار میں 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی اضافی صلاحیت کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2025-26 (ابتدائی نو ماہ): رواں مالی سال کے دوران کمپنی نے زمین سے توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی لاتے ہوئے محض نو ماہ میں نو نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 15 ہزار 695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

‘باراغزئی ایکس-01′ کی سب سے نمایاں دریافت کمپنی کی حالیہ کامیابیوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میں ‘باراغزئی ایکس-01’ کی دریافت کو تزویراتی طور پر خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران ہی تقریباً 15 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی ریکارڈ پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

ذخائر کی تجدید اور ملکی وسائل کی مدت میں اضافہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے زیرِ زمین محفوظ ذخائر کی تجدید کی شرح (ریزرو بدلنے کی شرح) میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کمپنی کی ذخائر تجدید شرح مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد تھی جو اگلے ہی سال بڑھ کر 167 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھی یہ شرح 153 فیصد پر مضبوطی سے برقرار رہی۔ ان شاندار کوششوں کے باعث 31 مارچ 2026ء تک کمپنی کے تیل و گیس ذخائر کی متوقع لائف لائن (مدت) 14 سال سے بڑھ کر اب 17 سال ہو گئی ہے، جس سے قومی توانائی وسائل کی پائیداری کو زبردست استحکام ملا ہے۔

نئے کنوؤں کی سسٹم میں شمولیت اور بحالی کے اقدامات کمپنی نے ان دریافت شدہ ذخائر کو فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر ملکی استعمال میں لانے کے لیے 34 نئے کنوؤں اور فیلڈز کو قومی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پرانی فیلڈز میں 65 سے زائد بڑے تکنیکی آپریشنز اور 295 سے زیادہ بحالی (Workover) کے اقدامات کے ذریعے پہلے سے جاری پیداوار میں یومیہ تقریباً 17 ہزار بیرل اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ اضافی گیس شامل کر کے ملکی سپلائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی یہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائیں گی بلکہ درآمدی بل میں واضح کمی، مقامی صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور ڈگمگاتی قومی معیشت کے طویل مدتی استحکام میں بھی اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوں گی۔

جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری، زرعی خود کفالت اور دیہی ترقی کی نئی راہیں ہموار

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کے تحت ملک بھر میں زرعی شعبے کی انقلابی ترقی، کسانوں کی خصوصی سہولت کاری اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان اقدامات کو ملک میں زرعی خود کفالت کے حصول اور دیہی معیشت کے پائیدار استحکام کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ کا آغاز ملک کے زرعی شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سمارٹ فارمنگ اور جدید تحقیقی نظام متعارف کرانے سے روایتی کاشتکاروں کو اب بہتر رہنمائی اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق، اس جدید زرعی معلوماتی نظام، سیٹلائٹ نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بروقت زرعی مشاورت کے ذریعے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار اور کاشتکاروں کی کام کرنے کی استعداد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

بنجر زمینوں کی بحالی اور معاشی منصوبے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور زرعی مصنوعات کے برآمدی مواقع میں اضافے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

گرین ایگری مالز کا قیام اور کسانوں کا اعتماد ملک بھر کے کاشتکاروں نے حکومت کی جانب سے ‘گرین ایگری مالز’ کے قیام کو بے حد خوش آئند اور کسان دوست اقدام قرار دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات اور جدید ترین زرعی مشینری اب ایک ہی چھت تلے نسبتاً انتہائی آسان اور سستے داموں دستیاب ہو رہی ہے، جس سے ان کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات دونوں میں واضح کمی آئی ہے۔

پنجگور سمیت دور دراز علاقوں میں ترقی مقامی کسانوں کے مطابق، ان جدید زرعی منصوبوں کی بدولت بلوچستان کے ضلع پنجگور سمیت دیگر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی زرعی سہولیات، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پنجگور جیسے علاقوں میں اب زرخیز زمینوں سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں، جبکہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی (سولر سسٹم) اور جدید آبپاشی (ڈریپ اریگیشن) کے منصوبے بھی کسانوں کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہے ہیں۔

خوراک کی فراہمی اور برآمدات میں اضافہ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر ان جدید زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا، تو پاکستان بہت جلد نہ صرف اپنی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، بلکہ خوراک کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کے لیے برآمدات میں بھی خاطر خواہ بہتری لا سکے گا۔

گوادر پورٹ پر 53 ہزار میٹرک ٹن کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ، علاقائی تجارت میں نیا سنگِ میل عبور

منصور احمد ,May 31,2026

گوادر (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

پاکستان کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کی حامل گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ نے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ گوادر پورٹ پر حالیہ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 53 ہزار 277 میٹرک ٹن سے زائد مختلف نوعیت کے کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ مکمل کر لی گئی ہے، جو بندرگاہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں اور جدید آپریشنل صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دوست ملک چین سے آنے والے ایک بڑے تجارتی بحری جہاز “ایم وی بی جیا شان” کو انتہائی کامیابی اور مہارت کے ساتھ گوادر پورٹ پر لنگر انداز کیا گیا۔ اس جہاز پر موجود تقریباً 20 ہزار 669 میٹرک ٹن وزنی اسٹیل بلٹس کو جدید ترین کرینوں اور لائفٹ سسٹم کے ذریعے محفوظ اور مؤثر انداز میں اتارا گیا۔ بندرگاہی حکام اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے مطابق، تمام آپریشنز کو بین الاقوامی بحری قوانین اور مقررہ معیارات کے مطابق وقت پر مکمل کیا گیا۔

اسی دوران، گوادر پورٹ کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیتوں کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب سلطنت عمان کی مشہور بندرگاہ “صحار” جانے والے ایک اور بحری جہاز کو ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے لیے گوادر منتقل کیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن سے گوادر پورٹ کی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے خطے میں ابھرتی ہوئی تجارتی اور لاجسٹک حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

بندرگاہ کے تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق، 12 اعشاریہ 8 میٹر ڈرافٹ کے حامل اتنے بڑے بحری جہاز کی محفوظ برتھنگ اس بات کا عملی مظہر ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ گوادر پورٹ اب نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور پورے خطے کے لیے ایک اہم ترین اور سستا تجارتی مرکز بن کر ابھر رہی ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت گوادر پورٹ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہ تجارتی سرگرمیاں اسی وژن کو سچ ثابت کر رہی ہیں۔

بندرگاہی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کی اسمارٹ پورٹ بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹم میں مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی اور عالمی تجارتی ضروریات کو تیز ترین وقت میں پورا کیا جا سکے۔ کارگو ہینڈلنگ میں یہ حالیہ ریکارڈ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گوادر آنے والے دنوں میں عالمی بحری تجارت، ٹرانزٹ روٹس اور علاقائی اقتصادی روابط کا سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔