Latest news

وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرنے کی شرط پر مذاکرات کی پیشکش

Spread the love

منصور احمد,October06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اکتوبر 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کو لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرنے کی صورت میں حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کرے، جس کے بعد حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ اس مقصد کے لیے کیا تھا کہ اسے لانگ مارچ اور دھرنے کی سیاست ترک کرنے پر قائل کیا جاسکے، تاہم ان کے بقول مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ مذاکراتی عمل کے آخری مرحلے میں جن امور پر اتفاق ہوچکا تھا، ان میں دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ سامنے آیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کو کامیاب نہ ہونے دینے کی کوشش کی گئی۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بارے میں دونوں فریقوں کے مؤقف مختلف رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں متعدد امور پر پیش رفت ہوئی تھی لیکن آخری مرحلے میں اختلافات پیدا ہوئے، جبکہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت کے مؤقف اور اپنے بنیادی مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کو قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نے احتجاجی سیاست کے ممکنہ معاشی اثرات پر بھی بات کی اور کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کا سب سے پہلا اور بڑا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ سے ملکی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران اجتماعی کوششوں اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے اور اب توجہ اقتصادی ترقی اور پیداوار بڑھانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے خبردار کیا کہ اگر کسی سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے عمل کو نقصان پہنچا تو حکومت اسے روکنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کی یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں جانب سے سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ لانگ مارچ کے آئندہ مرحلے اور اس کے راستے کے حوالے سے بھی سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور لانگ مارچ ختم کرنے کی شرط ان کے اپنے بیان پر مبنی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پر حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف مختلف ہیں، اس لیے خبر میں وزیراعظم کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو ان کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے، حتمی حقیقت کے طور پر نہیں۔

ماخذ: وزیراعظم پاکستان، ریڈیو پاکستان، ڈان