Latest news

ایل او سی پار کرنے والی کشمیری لڑکی پاکستانی حکام کے حوالے

Spread the love

منصور احمد,October08,2026

سری نگر (نیوز اینڈ نیوز) — 8 اکتوبر 2026ء

انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہونے والی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 19 سالہ لڑکی کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بھارتی فوج کے مطابق سامیہ عظیم کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل کھوئی رٹہ کے گاؤں بھینس گالا سے ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ وہ 2 اکتوبر کو راجوری ضلع کے نوشہرہ سیکٹر میں مبینہ طور پر غلطی سے ایل او سی عبور کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہوئی تھیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ لڑکی کا سرحد عبور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ نادانستہ طور پر دوسری جانب پہنچ گئی تھی۔ بھارتی فوج کے مطابق بدھ کو پونچھ کے چکن دا باغ کراسنگ پوائنٹ پر ضروری قانونی ضابطے مکمل کیے گئے، جس کے بعد سامیہ عظیم کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

کولگام میں پانچ مبینہ سہولت کار گرفتار

دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس، فوج اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ کارروائی کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد پر عسکریت پسندوں کے مبینہ سہولت کار ہونے کا شبہ ہے۔

پولیس نے گرفتار افراد کی شناخت تجمل حسین میر، رحمت علی نائیکو، تحریم احمد بٹ، منظور احمد بٹ اور کفایت احمد ڈار کے طور پر کی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دو پستول، تین میگزین، 40 گولیاں اور تین دستی بم برآمد کیے گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ تاہم گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی عدالتی سطح پر تصدیق ہونا باقی ہے۔

ہندوارہ میں مبینہ اسلحہ ڈپو کا سراغ

شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے میں بھی سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ زیرِ زمین پناہ گاہ کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کے مطابق مبینہ پناہ گاہ سے ایک اے کے 47 رائفل، تین ہینڈ گرنیڈ، 857 اے کے راؤنڈز، 192 پیکا راؤنڈز، آٹھ میگزین، ایک سائلنسر اور پستول کی 83 گولیاں برآمد ہوئیں۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ شبہ ہے کہ زیرِ زمین پناہ گاہ اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اس سلسلے میں ہندوارہ تھانے میں مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی سے علاقے میں عسکری سرگرمیوں کو دوبارہ منظم کرنے کی مبینہ کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سامیہ عظیم کے غلطی سے ایل او سی عبور کرنے اور ان کی حوالگی سے متعلق معلومات بھارتی فوج اور حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ اسی طرح کولگام اور ہندوارہ میں گرفتاریوں، اسلحے کی برآمدگی اور مبینہ عسکریت پسندوں سے تعلق کے دعوے بھی پولیس اور سکیورٹی حکام سے منسوب کیے گئے ہیں؛ گرفتار افراد کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔

ماخذ: بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس