Latest news

بنگلہ دیشی شہریوں کی بے دخلی، بھارت میں قانونی اور انسانی حقوق کے سوالات

Spread the love

کاشف عباسی ,October08,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 8 اکتوبر 2026ء

بھارت میں بنگلہ دیشی شہریوں کی مبینہ بے دخلی کے معاملے نے قانونی اور انسانی حقوق کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ صحافی اور تجزیہ کار ہارون ریشی کے مطابق ایسے معاملات میں بین الاقوامی قانون کے اہم اصول نان ریفولمنٹ (Non-Refoulement) کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، جس کے تحت کسی شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے جان یا آزادی کو سنگین خطرہ لاحق ہو۔

ہارون ریشی کے مطابق بھارت اس مخصوص بین الاقوامی معاہدے کا فریق نہیں ہے جس میں نان ریفولمنٹ کا اصول واضح طور پر موجود ہے، تاہم بھارتی سپریم کورٹ مختلف مقدمات میں آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت غیر ملکی شہریوں سمیت انسانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دے چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی شہریوں کی واپسی یا بے دخلی کا معاملہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ اس میں قانونی اور سفارتی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں۔ کسی شخص کو باضابطہ طور پر بنگلہ دیشی شہری قرار دینے کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان شناخت اور شہریت کی تصدیق سمیت مختلف سرکاری مراحل مکمل کرنا ضروری ہوتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بے دخلی کے کسی بھی عمل میں شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے اور متاثرہ افراد کو قانونی نمائندگی، اپنی شناخت اور شہریت ثابت کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شخص کو ملک بدر کرنے سے قبل اس کے بنیادی حقوق اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب حکام کی جانب سے ایسے اقدامات کو قومی سلامتی، غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام اور ملکی قوانین کے نفاذ سے جوڑا جاتا ہے۔ بھارتی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں ایک طرف ریاست کو اپنی سرحدوں اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کا اختیار حاصل ہے، جبکہ دوسری طرف کسی فرد کی ملک بدری کے دوران بنیادی انسانی حقوق، قانونی طریقہ کار اور ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
نان ریفولمنٹ کا اصول بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہے کہ کسی شخص کو ایسے مقام پر واپس نہ بھیجا جائے جہاں اسے ظلم، ایذا رسانی یا جان و آزادی کے سنگین خطرے کا سامنا ہو۔ تاہم اس اصول کی قانونی حیثیت اور اس کے اطلاق کا انحصار متعلقہ ملک کے معاہداتی وعدوں، ملکی قانون اور مخصوص کیس کے حالات پر ہوتا ہے۔

ماخذ: ہارون ریشی کا تجزیہ، انسانی حقوق کے کارکنوں کے بیانات