Latest news

بلاول بھٹو: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ قانونی ایٹم بم ہوگا

Spread the love

محمود احمد, October09,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ’’قانونی ایٹم بم‘‘ کے مترادف ہوگا، اس لیے اسے صرف آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق صوبے کے حالات پر تشویش اپنی جگہ، لیکن سیاسی اور آئینی بحران کا حل مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل وفاقی حکومت اور حکومتی نظام کے دیگر حلقے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تیار تھے، تاہم پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے غیر معمولی آئینی اختیار کو آخری چارۂ کار کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکراتی عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے مذاکرات کو ناکام بنانے میں کیا کردار ادا کیا۔ انہوں نے صوبے کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جن کے باعث گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر بحث ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے سیاسی محاذ آرائی اور سخت بیانات کے بجائے مذاکرات، پارلیمانی سیاست اور جمہوری طریقۂ کار کو مسائل کے حل کا راستہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست کر رہی ہے، جس کا نقصان صوبے، عوام اور ملک کو پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو عوامی حمایت حاصل ہے، لیکن اس کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور انتہا پسندانہ طرزِ سیاست اپنے ہی حامیوں کو مایوس کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ اس رویے کے باعث جماعت کراچی میں بھی مؤثر سیاسی کردار ادا نہیں کر سکی اور اگر اس نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو خیبر پختونخوا میں بھی اس کی سیاسی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔

انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ انہوں نے تمام سیاسی فریقوں کو انتخابی اصلاحات کی کمیٹی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے اور مسلم لیگ (ن) بھی اس پر رضامند ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر پی ٹی آئی کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوگی تو آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ دھرنوں اور محاذ آرائی کے بجائے سیاسی جماعتوں سے مکالمہ کرے اور پارلیمانی کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس راستے سے سیاسی ماحول بہتر بنانے اور عوام کی مایوسی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق بلاول بھٹو زرداری کے بیانات ان کا سیاسی مؤقف ہیں، کوئی حتمی سرکاری فیصلہ نہیں۔ وفاقی حکومت یا پی ٹی آئی کا ردعمل فراہم کردہ متن میں شامل نہیں، جبکہ انتخابی اصلاحات اور مذاکرات سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ماخذ: فراہم کردہ خطاب کی تفصیلات