Latest news

ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی لاپتا، ایچ آر سی پی کا فوری بازیابی کا مطالبہ

Spread the love

منصور احمد,October09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء

بلوچستان کے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کی مبینہ گمشدگی پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ان کی فوری اور محفوظ بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق جج کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق اسداللہ رئیسانی 6 اکتوبر 2026ء کو کوئٹہ سے پنجگور کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق سوراب کے علاقے سے گزرتے ہوئے ان سے رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ جج کے موجودہ ٹھکانے کا فوری سراغ لگایا جائے اور ان کے اہلِ خانہ کو تلاش اور بازیابی سے متعلق پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

ایچ آر سی پی نے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں واقعے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق جج کی محفوظ بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں۔

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے جمعے کے روز بتایا کہ ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے جج کی تلاش میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت سامنے آنے پر میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

جج کی گمشدگی کے معاملے میں اب تک فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان کے لاپتا ہونے کے مقام، واقعے کے ذمہ داروں یا اس کے پس منظر کے بارے میں حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے واقعے کی نوعیت اور ممکنہ محرکات کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تحقیقات اور سرکاری معلومات کا انتظار ضروری ہے۔

عدالتی عہدے پر فائز شخصیت کی گمشدگی نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ عدالتی اداروں اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ فوری اور شفاف کارروائی سے واقعے کے حقائق سامنے لانے اور اہلِ خانہ کی تشویش دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر ایچ آر سی پی کے بیان اور بلوچستان حکومت کے ترجمان سے منسوب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ جج اسداللہ رئیسانی کی گمشدگی کے ذمہ داروں یا واقعے کے محرکات کی تصدیق فراہم کردہ معلومات سے نہیں ہوتی۔ ان کی بازیابی سے متعلق تازہ سرکاری اطلاع سامنے آنے پر خبر اپ ڈیٹ کی جانی چاہیے۔

ماخذ: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)، شاہد رند سے منسوب بیان، فراہم کردہ رپورٹ