Latest news

پاکستان اور اومان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی تیاریاں، اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس

Spread the love

منصور احمد,October10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان اور اومان کے مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے آٹھویں اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں مجوزہ ایجنڈے، دوطرفہ معاہدوں اور انتظامی امور پر غور کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور اومان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کی مشترکہ صدارت اسحاق ڈار اور اومان کے وزیر خارجہ کریں گے۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔

مشترکہ وزارتی کمیشن کے مجوزہ ایجنڈے میں تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، مالیات، تیل و گیس، افرادی قوت، قونصلر امور، سکیورٹی، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، شہری ہوا بازی، تعلیم، میڈیا اور ثقافت سمیت متعدد شعبے شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے پاکستان اور اومان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں مشترکہ وزارتی کمیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ اجلاس کی تیاریوں کو جامع اور مؤثر بنایا جائے اور اس کے بعد طے پانے والے امور پر عمل درآمد کے لیے بھی مناسب انتظامات کیے جائیں، تاکہ باہمی تعاون کے حوالے سے ٹھوس نتائج حاصل ہو سکیں۔

اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، اقتصادی امور، وزارتِ داخلہ اور وزارتِ بحری امور کے سیکریٹریز، اومان میں پاکستان کے سفیر، وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

پاکستان اور اومان کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن دونوں ممالک کو مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پر باضابطہ مشاورت کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ آئندہ اجلاس میں طے پانے والے معاہدوں اور فیصلوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد دوطرفہ اقتصادی اور ادارہ جاتی تعاون کی سمت مزید واضح ہو سکے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر دفترِ خارجہ پاکستان کے فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اجلاس کی تیاریوں اور زیرِ غور شعبوں کی تفصیلات بیان کے مطابق پیش کی گئی ہیں؛ آٹھویں اجلاس کی حتمی تاریخ اور اس میں طے پانے والے نتائج سے متعلق کوئی اضافی دعویٰ شامل نہیں کیا گیا۔

ماخذ: دفترِ خارجہ پاکستان، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان