Latest news

خیبر پختونخوا میں پولیس اور انتظامیہ کے بڑے تبادلے، 18 پولیس افسران کی نئی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن

Spread the love

کاشف عباسی ,October12,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ اور پولیس کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبے میں متعدد اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے بعد اعلیٰ پولیس افسران کی تقرریوں اور تبادلوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پولیس کے مجموعی طور پر 18 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں، جبکہ بعض سینئر افسران کو اسلام آباد میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ٹریننگ ڈاکٹر فصیح الدین اور ڈی آئی جی لیگل ہمایوں مسعود سندھو کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ صوبے کے اعلیٰ پولیس انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کوہاٹ ریجن کے ریجنل پولیس آفیسر عرفان طارق کو بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ان کی جگہ شاکر حسین داور کو تعینات کیا گیا ہے۔

ریجنل پولیس افسران میں تبدیلیاں

ملاکنڈ ریجن کے ریجنل پولیس آفیسر سید فدا حسن شاہ کو صوبے کا ڈی آئی جی آپریشنز مقرر کیا گیا ہے۔ اس تعیناتی کے ذریعے پولیس آپریشنز کی نگرانی کے لیے ایک سینئر افسر کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہزارہ، ملاکنڈ اور کوہاٹ ریجنز میں بھی ریجنل پولیس افسران کی سطح پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ تاہم ہزارہ ریجن میں تعیناتی اور بعض دیگر تبادلوں کی مکمل تفصیلات فراہم کردہ متن میں شامل نہیں۔

اس کے علاوہ مانسہرہ، سوات، کرک، چترال اور ہری پور کے ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) بھی تبدیل کیے گئے ہیں۔ ان تبادلوں کا مقصد یا انفرادی افسران کی نئی ذمہ داریوں کی مکمل فہرست نوٹیفکیشن کی دستیاب تفصیلات میں واضح نہیں کی گئی۔

صوبائی بیوروکریسی میں بھی ردوبدل

پولیس افسران کے تبادلوں کے ساتھ صوبائی بیوروکریسی میں بھی انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پشاور، مردان، صوابی، لوئر چترال، اپر دیر، شانگلہ، ملاکنڈ، سوات، اپر سوات، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، چارسدہ، بنوں، لکی مروت اور کرک سمیت متعدد اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کیا گیا ہے۔

متعلقہ افسران کو ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ ان کی جگہ نئے ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتیوں کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ تاہم فراہم کردہ متن میں تمام تبدیل ہونے والے افسران اور ان کے جانشینوں کے نام شامل نہیں ہیں۔

انتظامی تبدیلیوں کی اہمیت

پولیس اور سول انتظامیہ میں بیک وقت ہونے والی تبدیلیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امن و امان، سکیورٹی اور حکومتی انتظامات پر توجہ مرکوز ہے۔

ریجنل پولیس افسران، ضلعی پولیس سربراہان اور ڈپٹی کمشنروں کی تعیناتیاں صوبے میں انتظامی امور اور سکیورٹی کے نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان تبدیلیوں کے عملی اثرات کا اندازہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور سرکاری فیصلوں پر عمل درآمد کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پولیس اور سول انتظامیہ کے تبادلوں کی تفصیلات کو سرکاری نوٹیفکیشن سے ملا کر دیکھنا ضروری ہے۔ خبر میں 18 پولیس افسران کے تبادلوں کا ذکر ہے، تاہم تمام افسران کے نام اور نئی تعیناتیوں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کی گئی۔

ماخذ: سنٹرل پولیس آفس (CPO) پشاور، اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا / نیوز اینڈ نیوز پشاور۔