

منصور احمد,October23,2026
مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری سے متعلق مقدمے میں عدالت نے تین درخواستیں منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ درخواستیں شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن کی پیروی وکیل شاہد علی اعوان نے کی۔ مقدمے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا شوکت نواز میر کو جون 2026 میں پولیس نے حراست میں لیا تھا اور اس واقعے سے متعلق دستیاب ویڈیو اور دیگر مواد کی قانونی حیثیت کیا ہے۔
یاد رہے کہ 30 جون 2026 کو جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، جس میں مبینہ طور پر شوکت نواز میر کو پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم گرفتاری کے حالات، حراست کی قانونی حیثیت اور اس وقت پیش آنے والے واقعات کی مکمل تفصیلات کا تعین عدالتی کارروائی اور متعلقہ شواہد کی جانچ سے ہوگا۔
ایس ایچ او کو طلب کرنے کی درخواست منظور
وکیل شاہد علی اعوان کے مطابق پہلی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شوکت نواز میر کو تھانہ دھیرکوٹ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں گرفتار کیا گیا۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف کی تائید میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا، جس میں مبینہ طور پر پولیس افسر اور دیگر اہلکاروں کی موجودگی میں شوکت نواز میر کو لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ متعلقہ ایس ایچ او کو طلب کرکے اس واقعے کی وضاحت لی جائے۔ درخواست گزار یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا واقعہ کس نوعیت کا تھا، آیا شوکت نواز میر کو پولیس نے حراست میں لیا تھا اور اگر ایسا ہوا تو اس کارروائی کی تفصیلات کیا ہیں۔
عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ دھیرکوٹ کو 29 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ان کی پیشی سے مقدمے میں اہم پیش رفت متوقع ہے، کیونکہ متعلقہ پولیس افسر کا مؤقف اس معاملے میں واقعات کی نوعیت اور پولیس کے کردار کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یو ایس بی میں محفوظ ویڈیو اور بیان عدالتی ریکارڈ کا حصہ
دوسری درخواست میں عدالت سے اجازت طلب کی گئی تھی کہ ایک یو ایس بی ڈیوائس میں محفوظ مواد کو مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ وکیل شاہد علی اعوان کے مطابق اس مواد میں شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور اُس وقت کے وزیرِ قانون میاں عبدالوحید سے منسوب ایک بیان شامل ہے۔
درخواست گزار کے مطابق مذکورہ بیان میں شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ سے گرفتار کیے جانے کی کارروائی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ویڈیو اور بیان کو عدالتی ریکارڈ میں شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عدالت متعلقہ مواد کا جائزہ لے کر واقعات کی حقیقت جانچ سکے۔
عدالت نے یو ایس بی ڈیوائس کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست بھی منظور کر لی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ویڈیو اور اس میں موجود مواد مقدمے کی کارروائی میں زیرِ غور آ سکتا ہے۔ تاہم کسی ویڈیو یا بیان کا ریکارڈ میں شامل ہونا بذاتِ خود اس کے تمام مندرجات کی تصدیق نہیں ہوتا؛ اس کی صداقت، سیاق و سباق اور قانونی اہمیت کا تعین عدالت شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کرے گی۔
مقدمے میں آئندہ سماعت کی اہمیت
شوکت نواز میر کی مبینہ گرفتاری کا معاملہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں پولیس کی ممکنہ کارروائی، گرفتاری کے حالات اور متعلقہ شواہد کی دستیابی جیسے قانونی سوالات شامل ہیں۔ عدالت کی جانب سے ایس ایچ او کو طلب کرنے کا مقصد متعلقہ افسر سے وضاحت حاصل کرنا ہے، جبکہ ویڈیو اور دیگر مواد کو ریکارڈ کا حصہ بنانے سے شواہد کی جانچ کا راستہ کھلتا ہے۔
29 اکتوبر کی سماعت میں ایس ایچ او کا مؤقف اور عدالتی ریکارڈ میں شامل مواد مقدمے کی مزید کارروائی کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عدالت نے گرفتاری کے دعوے کو حتمی طور پر درست تسلیم کر لیا ہے یا کسی فریق کی ذمہ داری متعین کر دی ہے۔ مقدمے کا حتمی نتیجہ عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے شواہد، فریقین کے دلائل اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں طے ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر درخواست گزار کے مؤقف اور وکیل کی جانب سے سماعت سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات پر مبنی ہے۔ عدالت کی جانب سے درخواستیں منظور کرنا اور ایس ایچ او کو طلب کرنا مقدمے کی کارروائی کا حصہ ہے، حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔ گرفتاری کے حالات اور متعلقہ ویڈیو و بیان کی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی جانچ کے بعد ہوگا۔
ماخذ: عدالت میں دائر درخواستوں کی تفصیلات، وکیل شاہد علی اعوان کا بیان، جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اعلامیہ