Latest news

نیتن یاہو کا حکم: الخلیل کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ، دو فلسطینی ہلاک اور پانچ اسرائیلی زخمی

Spread the love

کاشف عباسی ,October23,2026

الخلیل (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کو فوری طور پر بند کرنے اور علاقے میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعے کے روز الخلیل کے قریب ایک اسرائیلی فوجی چوکی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد کیا گیا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق پانچ افراد زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد شہر اور قریبی علاقوں میں اضافی فوجی تعینات کیے گئے اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق فائرنگ کا واقعہ الخلیل کے علاقے فرش الہوا کے داخلی راستے کے قریب قائم ایک فوجی چوکی پر پیش آیا۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ دو افراد نے چوکی کے قریب فائرنگ کی، جس کے بعد اسرائیلی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ مختصر تعاقب اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد دونوں فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دونوں افراد کو حملہ آور قرار دیا، تاہم واقعے کے محرکات اور اس کے پس منظر سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

طبی اور ہنگامی امدادی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں پانچ اسرائیلی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد گاڑی سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، تاہم برآمد ہونے والے سامان کی مکمل تفصیلات اور اس کی بنیاد پر کیے گئے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

نیتن یاہو کا اعلیٰ سکیورٹی حکام سے رابطہ

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو نے وزیرِ دفاع، اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف، داخلی سلامتی کے ادارے کے سربراہ، قومی سلامتی کے مشیر اور فوج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے ساتھ سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا۔

نیتن یاہو نے الزام لگایا کہ حماس شہریوں کے خلاف بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ انہوں نے اس دعوے کے حق میں اسلحے اور گولہ بارود کی مبینہ برآمدگی کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اور سکیورٹی اداروں کو فوری طور پر الخلیل کو گھیرے میں لینے اور مغربی کنارے میں مزید حملوں کی روک تھام کے لیے اضافی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاہم حماس کی جانب سے کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی اور اس واقعے میں تنظیم کی براہِ راست شمولیت سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔ اسرائیلی حکام کے بیان میں ان دعوؤں کو سکیورٹی خدشات کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، لیکن تحقیقات کے حتمی نتائج سامنے آنے تک انہیں ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھا جا سکتا۔

الخلیل اور اطراف کے دیہات میں ناکہ بندی

واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر اور اس کے گرد و نواح کے متعدد دیہات میں تلاشی کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ فوجی اہلکاروں نے اہم راستوں پر اضافی چوکیاں قائم کیں اور شہریوں کی آمدورفت محدود کرنے کے اقدامات کیے۔ حکام کے مطابق کارروائیوں کا مقصد مشتبہ افراد کی تلاش اور مزید حملوں کو روکنا ہے۔

الخلیل مقبوضہ مغربی کنارے کا ایک اہم فلسطینی شہر ہے۔ شہر اور اس کے اطراف میں وسیع پیمانے پر ناکہ بندی سے شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں لوگوں کو ملازمتوں، تعلیمی اداروں، کاروباری مراکز اور طبی سہولتوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ خاص طور پر ایسے مریضوں کے لیے صورت حال سنگین ہو سکتی ہے جنہیں فوری علاج کے لیے دوسرے علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔

نیتن یاہو کی ہدایت کے مطابق سکیورٹی اداروں کو الخلیل میں کارروائیاں تیز کرنے کے ساتھ مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں بھی اضافی حفاظتی اقدامات کی تیاری کرنے کا کہا گیا ہے۔ تاہم پابندیوں کے مکمل دائرے، ان کے نفاذ کی مدت اور شہریوں کے لیے ممکنہ استثنائی اجازتوں کے بارے میں تفصیلات واضح ہونا باقی ہیں۔

خطے کی سکیورٹی صورت حال پر اثرات

الخلیل میں فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، گرفتاریوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ ایسے واقعات کے بعد فوجی تعیناتی اور ناکہ بندی میں اضافے سے سکیورٹی صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی حکومت ان اقدامات کو ممکنہ حملوں کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ فلسطینی علاقوں میں طویل یا وسیع ناکہ بندی کے نتیجے میں عام شہریوں کی نقل و حرکت اور بنیادی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ آئندہ صورت حال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فوجی کارروائیاں کتنی دیر جاری رہتی ہیں اور حکام پابندیوں میں نرمی کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: فائرنگ، ہلاکتوں اور زخمیوں سے متعلق تفصیلات اسرائیلی فوج اور طبی ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں۔ حماس کی مبینہ منصوبہ بندی اور واقعے میں اس کی شمولیت سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ الخلیل میں ناکہ بندی کے مکمل اثرات اور مدت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے پر صورت حال واضح ہو سکے گی۔

ماخذ: اسرائیلی فوج، اسرائیلی وزیرِ اعظم کا دفتر، طبی و ہنگامی امدادی ذرائع، ایسوسی ایٹڈ پریس، رائٹرز