Latest news

اسرائیل میں انتخابات سے قبل مغربی کنارے کی ناکہ بندی، ہیبرون میں 2,200 فلسطینی بے گھر

Spread the love

محمود احمد، 25 اکتوبر 2026

ہیبرون (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء

اسرائیلی فوج نے منگل کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزرگاہیں بند کرنے اور فلسطینی کارکنوں کی نقل و حرکت پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے مطابق اتوار سے بیشتر فلسطینی کارکنوں کو اسرائیلی بستیوں اور صنعتی علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا، جبکہ بعض محدود استثنا برقرار رہیں گے۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون، جسے الخلیل بھی کہا جاتا ہے، میں اسرائیلی فوج کا وسیع سکیورٹی آپریشن جاری ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 2,200 فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد رہائشی مکانات اور تجارتی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہ پابندیاں جمعے کو ہونے والے اس مسلح حملے کے بعد شروع کیے گئے سکیورٹی اقدامات کا حصہ قرار دی ہیں جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق حملے میں ملوث دو فلسطینی مسلح افراد بھی مارے گئے تھے۔

انتخابات سے قبل سکیورٹی اقدامات سخت

اسرائیلی فوج کے اعلان کے مطابق مغربی کنارے کی زمینی گزرگاہوں کی بندش اور فلسطینی کارکنوں کی آمدورفت محدود کرنے کا مقصد سکیورٹی انتظامات کو سخت کرنا ہے۔ نئی پابندیوں کے تحت بیشتر فلسطینی کارکنوں کو اسرائیلی بستیوں اور صنعتی علاقوں میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم بعض افراد کے لیے محدود استثنا برقرار رہیں گے۔

ان پابندیوں سے ان فلسطینی کارکنوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو روزگار کے لیے اسرائیلی بستیوں یا صنعتی علاقوں میں جاتے ہیں۔ نقل و حرکت میں رکاوٹیں کام پر پہنچنے، آمدنی حاصل کرنے اور خاندانوں کے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

تاہم اسرائیلی فوج کے اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پابندیاں کتنے عرصے تک نافذ رہیں گی، کن کارکنوں کو استثنا دیا جائے گا اور زمینی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے کے لیے کیا شرائط مقرر کی گئی ہیں۔

ہیبرون میں فوجی کارروائی اور بے گھری

مغربی کنارے کے اہم شہر ہیبرون میں اسرائیلی فوج کی کارروائی جاری ہے۔ مقامی حکام کے مطابق فوجی آپریشن کے باعث تقریباً 2,200 فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد مکانات اور کاروباری عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

ہیبرون کے میئر یوسف الجعبری نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بے گھر ہونے والے بیشتر افراد نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں پناہ حاصل کی ہے۔

بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی سے متاثرہ خاندانوں کو رہائش، خوراک، ادویات اور روزمرہ ضروریات کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اگر کارروائی طویل ہوتی ہے تو عارضی طور پر پناہ لینے والے خاندانوں کے لیے اضافی امداد کی ضرورت بھی بڑھ سکتی ہے۔

فراہم کردہ معلومات میں متاثرہ عمارتوں کی مکمل تعداد، بے گھر خاندانوں کے لیے مختص امدادی وسائل یا فوجی کارروائی ختم ہونے کے وقت سے متعلق تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

کاروبار اور تعلیم بھی متاثر

مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں نقل و حرکت پر پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں کی معطلی کے باعث وسیع معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ سے دکانداروں، چھوٹے کاروباری اداروں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

تعلیمی اداروں نے بھی موجودہ صورت حال کے باعث عارضی طور پر آن لائن تعلیم کا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی تعلیم جاری رکھنا ہے، تاہم انٹرنیٹ، بجلی اور مناسب تعلیمی سہولتوں تک رسائی میں فرق کے باعث بعض خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہیبرون میں نقل و حرکت کی پابندیوں، بے گھری اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل کے مشترکہ اثرات شہری زندگی کے مختلف شعبوں تک پھیل سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے لیے متاثرہ خاندانوں کی ضروریات پوری کرنا اور بنیادی خدمات برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

نیتن یاہو حکومت کے خلاف تل ابیب میں مظاہرہ

مغربی کنارے میں کارروائیوں اور نئی پابندیوں کے اعلان کے دوران اسرائیل کے شہر تل ابیب میں بھی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج اسرائیل میں انتخابات سے چند روز قبل سامنے آیا ہے، جب سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران سکیورٹی اور فلسطینی علاقوں سے متعلق پالیسی اہم موضوعات میں شامل ہیں۔ تاہم تل ابیب کے مظاہرے کے شرکا کے تمام مطالبات اور احتجاج کی مکمل تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔

مغربی کنارے میں نئی پابندیوں، ہیبرون میں فوجی آپریشن اور اسرائیل کے اندر جاری سیاسی احتجاج نے انتخابی ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ سکیورٹی اقدامات کتنی مدت تک برقرار رہتے ہیں اور ان کے انسانی و معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: نقل و حرکت کی پابندیوں سے متعلق اعلان اسرائیلی فوج سے منسوب ہے، جبکہ ہیبرون میں تقریباً 2,200 فلسطینیوں کے بے گھر ہونے اور عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات مقامی حکام نے دی ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں پابندیوں کی مدت، بے گھر ہونے والے افراد کی مکمل تفصیلات اور فوجی کارروائی ختم ہونے کے وقت کی تصدیق موجود نہیں۔

ماخذ: اسرائیلی فوج کے بیانات، ہیبرون کے میئر یوسف الجعبری، مقامی حکام کی اطلاعات