

روزینہ اسماعیل، 25 اکتوبر 2026
اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں جموں و کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ پاکستان کے مطابق یہ تنازع اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس کا حتمی حل متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ میں اقلیتوں کے مسائل سے متعلق خصوصی نمائندے کے ساتھ انٹرایکٹو مکالمے کے دوران پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص قرارداد 47، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنازعے کا فیصلہ کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین وہاں کے لوگوں کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا ضروری ہے۔
سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کو ایک بین الاقوامی تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان طویل عرصے سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 47، جو 1948 میں منظور ہوئی، جموں و کشمیر میں امن کی بحالی اور عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے مجوزہ اقدامات سے متعلق ہے۔ پاکستان اس قرارداد اور دیگر متعلقہ قراردادوں کو اپنے مؤقف کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
تاہم ان قراردادوں پر عمل درآمد کے طریقۂ کار اور تنازعے کے حل کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مؤقف میں بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ اسی وجہ سے جموں و کشمیر کا مسئلہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات اور علاقائی سیاست کا اہم موضوع رہا ہے۔
اقلیتوں کے حقوق اور حقِ خودارادیت
صائمہ سلیم نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کی اس وضاحت کا خیرمقدم کیا جس میں اقلیتوں کے حقوق اور اقوام کے حقِ خودارادیت کے درمیان فرق کو تسلیم کیا گیا تھا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے تناظر میں ان دونوں تصورات کے فرق کو سمجھنا اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مساوات، عدم امتیاز اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ان اصولوں کا اطلاق دنیا کے ہر خطے میں یکساں طور پر ہونا چاہیے اور کسی بھی گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام میں اقلیتوں کے تحفظ اور لوگوں کے حقِ خودارادیت کو اہمیت حاصل ہے، تاہم دونوں کے قانونی دائرے اور اطلاق کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے خطاب میں ان امور کو جموں و کشمیر کے تنازعے کے ساتھ جوڑتے ہوئے منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلاموفوبیا اور مذہبی عدم برداشت پر تشویش
پاکستانی مندوب نے دنیا کے مختلف حصوں میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم اقلیتوں، کے خلاف امتیازی سلوک، عدم برداشت، نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں اضافے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اسلاموفوبیا، مذہبی بنیادوں پر تفریق اور مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
صائمہ سلیم کے مطابق نفرت پر اکسانے اور مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو نشانہ بنانے کے رجحانات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مشترکہ اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے بنیادی حقوق کے احترام اور مساوی سلوک کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی اہمیت اجاگر کی۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اصولوں پر بلاامتیاز عمل ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں حکومتوں، عالمی اداروں اور متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔
منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا منصفانہ اور پائیدار حل کی بنیاد ہے۔
پاکستان نے اپنے خطاب کے ذریعے مسئلے کو اقوامِ متحدہ کے فورم پر اجاگر کرتے ہوئے حقِ خودارادیت، اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی عدم برداشت کے خلاف اقدامات کی ضرورت کو نمایاں کیا۔ تاہم اس خطاب کے نتیجے میں کسی نئے مذاکراتی عمل، قرارداد یا عملی پیش رفت کا اعلان فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں۔
جموں و کشمیر کے تنازعے کا حل دونوں ممالک کے درمیان اختلافات، متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں اور کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات سے جڑے پیچیدہ معاملات پر پیش رفت کا متقاضی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی حالیہ تقریر اسی دیرینہ سفارتی مؤقف کا تسلسل ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر اقوامِ متحدہ میں پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم کے بیان اور پاکستان کے سرکاری مؤقف پر مبنی ہے۔ قرارداد 47 سمیت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی تشریح اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مؤقف مختلف ہیں۔ اس خطاب میں کسی نئے معاہدے یا تنازعے کے فوری حل کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ماخذ: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بیان، پاکستانی مشن، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 47