

محمود احمد, October25,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کیے جانے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک گزشتہ دو برس کے دوران کوئی تعمیری کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے بقول، یورپ اب اس مسئلے کے حل میں مدد دینے والے فریق کے بجائے خود مسئلے کا حصہ بن چکا ہے۔
اسماعیل بقائی نے یورپی ممالک کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے دوران تینوں یورپی ممالک نے ان کارروائیوں کی مذمت نہیں کی۔ ان کے مطابق یورپی حکومتوں کے بیانات ایسے تھے جنہیں ایران امریکی فوجی جارحیت کی توثیق سمجھتا ہے۔
ایرانی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ یورپی ممالک کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے باوجود ایران نے ان کے سابقہ کردار اور سفارتی اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ایران کی یورپی ممالک پر تنقید
اسماعیل بقائی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی گزشتہ کئی برسوں سے ایران کے جوہری مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتِ حال میں ان کا رویہ تعمیری نہیں رہا۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں شریک رہنے والے ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تنازع کے حل، سفارتی رابطوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے متوازن کردار ادا کریں۔ تاہم بقائی کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک نے حالیہ برسوں میں ایسے اقدامات کیے جن سے ایران کے ساتھ اعتماد کی فضا متاثر ہوئی۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ جوہری تنازع کو فوجی دباؤ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ تہران یورپی ممالک سے یہ بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر واضح اور مستقل مؤقف اختیار کریں۔
جوہری تنصیبات پر حملوں کا معاملہ
بقائی نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک نے ان کارروائیوں کی مذمت نہیں کی۔ ان کے مطابق، اس رویے نے یورپی حکومتوں کے دعووں اور ان کے عملی اقدامات کے درمیان فرق کو نمایاں کیا۔
ایرانی ترجمان نے ان حملوں کے تناظر میں یورپی ممالک کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے اقدامات مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا نہیں کرتے۔
جوہری تنصیبات پر حملوں اور ان کے قانونی و سلامتی کے اثرات سے متعلق مختلف فریقوں کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایران ایسے حملوں کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کارروائی قرار دیتا ہے، جبکہ اس نوعیت کے تنازعات میں متعلقہ ممالک کے بیانات اور بین الاقوامی قانونی مؤقف اہمیت رکھتے ہیں۔
بقائی کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جوہری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں میں اعتماد اور فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک ضروری ہے۔
اسنیپ بیک میکانزم پر بھی اعتراض
ایرانی ترجمان نے تین یورپی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔ اسنیپ بیک سے مراد ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق ایسے طریقۂ کار سے ہے جس کے ذریعے مخصوص شرائط کے تحت ایران پر اقوامِ متحدہ کی سابقہ پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس میکانزم کو فعال کرنے کی کوشش بھی ان ممالک کے اسی طرزِ عمل کی ایک مثال ہے جس پر ایران کو اعتراض ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتے اور فریقوں کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات صرف تکنیکی نوعیت کے نہیں بلکہ پابندیوں، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی معاہدوں کی تشریح سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کیے جانے کے باوجود اسنیپ بیک کے معاملے پر اختلافات دونوں جانب کے مؤقف میں فاصلے کو ظاہر کرتے ہیں۔
جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی مذاکراتی پیشکش
جرمنی کے وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفول نے 23 اکتوبر کو استنبول میں یورپی اور علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
تینوں یورپی ممالک طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔ ان کا مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جوہری تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اب بھی زیرِ غور ہے۔
تاہم اسماعیل بقائی کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران مذاکرات کے امکان کو یورپی ممالک کے سابقہ اقدامات اور ان کے موجودہ مؤقف کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ تہران کی جانب سے اعتماد سے متعلق تحفظات دور کیے بغیر مذاکرات میں پیش رفت مشکل ہو سکتی ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران اور یورپی ممالک اپنے اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کے لیے قابلِ قبول شرائط طے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال کسی نئی مذاکراتی تاریخ، طے شدہ ایجنڈے یا کسی معاہدے پر اتفاق کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اسماعیل بقائی کے بیانات ایران کا سرکاری مؤقف ظاہر کرتے ہیں۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم دونوں جانب کے اختلافات، بالخصوص اسنیپ بیک میکانزم اور فوجی کارروائیوں کے معاملے پر، برقرار ہیں۔ کسی نئے مذاکراتی دور یا معاہدے کی حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
ماخذ: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا بیان، جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفول کا بیان