Latest news

مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دے دی

Spread the love

منصور احمد,October25,2026

قاہرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

مصر کی پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری فوج کو مدد فراہم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمان سے درخواست کی تھی کہ وہ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب ممالک کے اتحاد کے تحت مدد کی درخواست کی منظوری دے۔ پارلیمانی فیصلے کے بعد مصر کے ممکنہ کردار اور اس کے دائرۂ کار پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

تاہم فوجی مدد کی منظوری کو مصر کی جانب سے یمن میں براہِ راست جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ مصری صدر نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ مصر کی حمایت سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے گی اور اس میں یمن پر حملے شامل نہیں ہوں گے۔

سعودی عرب کے دفاع میں مصر کا ممکنہ کردار

مصر نے ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی بارہا مذمت کی ہے، تاہم اب تک براہِ راست لڑائی میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے۔ پارلیمان کی جانب سے فوجی مدد کی اجازت ایسے میں قاہرہ کے لیے اپنی علاقائی سلامتی کی پالیسی پر عمل درآمد کا ایک اہم مرحلہ بن سکتی ہے۔

سعودی عرب اور مصر کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی روابط طویل عرصے سے قائم ہیں۔ دونوں ممالک عرب خطے کے اہم فریق ہیں اور علاقائی استحکام کے معاملات پر ایک دوسرے سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات نے خلیجی ممالک کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں مصر کی حمایت سعودی عرب کے دفاعی انتظامات اور علاقائی تعاون کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم مصری فوج کی تعیناتی، اس کے حجم، نوعیت یا عملی ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں واضح نہیں کی گئیں۔

السیسی کا سعودی قیادت کو پیغام

گزشتہ بدھ کو مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی اور مصری انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ حسن رشاد نے سعودی دارالحکومت ریاض کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صدر عبدالفتاح السیسی کا خط پہنچایا۔

مصری صدر کے پیغام میں سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع کے لیے حمایت کا ذکر کیا گیا تھا۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، السیسی نے واضح کیا کہ مصر کی حمایت کا دائرہ سعودی عرب کے دفاع تک محدود ہوگا اور اس میں یمن پر حملے شامل نہیں ہوں گے۔

یہ وضاحت اہم ہے کیونکہ سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت اور یمن میں فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شرکت دو مختلف معاملات ہیں۔ مصر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قاہرہ سعودی عرب کی مدد کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یمن کے تنازع میں اپنے کردار کی حدود بھی متعین رکھنا چاہتا ہے۔

سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری

مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے سعودی قیادت سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ مصر یمن کے تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے تمام مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصر دفاعی حمایت کے ساتھ سیاسی اور سفارتی راستوں کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔ یمن کا تنازع کئی برس سے علاقائی سلامتی، انسانی ضروریات اور عالمی تجارت سے متعلق مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔ اس لیے کسی بھی نئی فوجی پیش رفت کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتے وقت اس کے علاقائی اور انسانی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

پارلیمانی اجازت کے بعد اب اہم سوال یہ ہوگا کہ مصر سعودی عرب کی مدد کس طریقے سے فراہم کرتا ہے اور اس حمایت کا عملی دائرہ کیا ہوگا۔ جب تک قاہرہ کی جانب سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی جاتیں، فوجی تعیناتی یا کسی مخصوص کارروائی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: فراہم کردہ معلومات کے مطابق مصری پارلیمان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی اجازت دی ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی پہلے واضح کر چکے ہیں کہ حمایت سعودی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی؛ براہِ راست یمن میں فوجی کارروائی کی منظوری یا آغاز کی تصدیق ان معلومات سے نہیں ہوتی۔

ماخذ: مصری صدر کا دفتر، مصری وزارتِ خارجہ، مصری پارلیمان سے متعلق فراہم کردہ اطلاعات